چنار تلے
چنار تلے
آج میں نے سکول سے چھٹی کی تھی۔ اگرچہ شام سےطبیعت خراب تھی لیکن کچھ افاقہ ہوتے ہی صحن میں اگئی تاکہ کچھ ضروری کام نبٹا سکوں۔
ابھی میں سوچ ہی رہی تھی کہ اچانک شور اور نعروں نے میری توجہ کام سے اپنی طرف مبذول کرائی۔ میں نے غور سے سننے کی کوشش کی۔ کچھ دیر بعد بات سمجھ میں آئی۔ سکول کے بچے نعرے لگا رہے تھے ، "چنار نہیں کٹے گا "، "ہمارا سائبان مت چھینو" ، "مہرباں چھاؤں زندہ باد"۔ کچھ دیر آوازیں رُک گئیں۔ پھر مذید بلند آواز میں بچے نعرہ لگانے لگے، ہمارا چنار نہیں کٹےگا، ہماری آن کو رہنے دو۔۔۔
ایک دو نہ دو نہ ، دو دونی چار۔۔
گورنمنٹ گرلز پرائمری سکول مٹہ سوات کے کھولنے سے پہلے کا منظر میرے سامنے تھا۔ تناور اور گھنے چنار کے سائے میں اُستاد صاحب کرسی پر بیٹھا طلبہ وطالبات کو پہاڑوں کا ڈرل کراتا۔ گرمی اور بچوں کے ہم آہنگ آوازوں کی وجہ سے نیا آنے والا اُستاد صاحب اکثر اونگنے لگتا کیونکہ پہاڑوں کا پیریڈ آخری پیریڈ ہوا کرتا تھا جس میں تقریباً سب بےمجال اور بےدم ہوچکے ہوتے، لیکن خاص سُر میں پہاڑے کبھی باجے کی طرح میٹھے ومدہم اور کبھی طبلے کے زور دار گونج جیسے سُر میں ،تمام طالبعلم ایک آواز میں گاتے ہوئے پڑھتے ۔
ایک مرتبہ پھر بچوں کی آوازیں مذید جوش کے ساتھ گونج رہی تھیں۔ "چنارکو کاٹنے نہیں گے"۔ یہ ہمارے سکول کاقیمتی اثاثہ ہے ، یہ فیصلہ واپس لیا جائے ۔۔۔ آوازیں دور ہوتی گئیں اورمیرے ذہن میں ایک مرتبہ پھر چنار کا تناور درخت اور اسکی گھنی شاخیں بادِ بہاراں میں جھومتی، اٹھکیلیاں کھاتی ،پُر سحر خواب بن کر میرے ارد گرد گھنا سایہ کرکے، میرے ارد گرد طرح جھول گئیں۔
غالباً یہ قیامِ پاکستان کے تاریخی واقعے کے وقوع پزیر ہونے کے زمانے کی بات ہے کہ تحصیل مٹہ میں گورنمنٹ پرائمری سکول کا اجراء ہوا۔ یہ پرائمری سکول، تحصیل مٹہ جو کہ ریاست سوات کی ایک وسیع وعریض وادی ہے، کا اولین اور واحد سکول تھا۔ اُن دنوں میاں گل جہانزیب ، والئ سوات کے والد میاں گل عبدالودود (بادشاہ صاحب) کی ریاست سوات پر حکمرانی تھی۔ اس سکول میں پڑھانے والے معلمین کا انتخاب حاکمِ وقت نے براہ راست خود کیا تھا۔
ان معلمین میں مسجد( مکتب) سے فارغ التحصیل
مولوی محمد سعید بھی تھے۔ وہ مٹہ سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر ایک پہاڑی علاقے کے رہنے والے تھے اوراُس کے آ بائی جگہ کو سیرئ کے نام سے لوگ جانتے تھے، لہٰذا زیادہ تر لوگ اُن کو"سیرئی اُستاد" کے نام سے یاد کرتے تھے۔ وہ طلبِ علم کے سلسلے میں ہمیشہ اپنے گھر اور گاوں سے دور رہے۔
سکول کے قریب ہیڈ ماسٹر اور اساتذہ کے لیے کچھ سرکاری گھر بنائے گئے تھے۔ ان میں سے ایک گھر میں مولوی محمد سعید المعروف بہ سیرئ اُستاد بھی قیام پذیر ہوئے۔
در و دیوار بھی اکثر کردار پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ مٹی اور پتھر خالص قدرتی اشیاء ہیں۔ ان سے بنے گھروں میں رہنے والے لوگی خلوص میں بے مثال تھے۔
بے شک وہ مٹی اورپتھر سےبنے کچےگھر تھے لیکن ان کے باسیوں کے دل ایک دوسرے سے مضبوطی سے جڑے تھے ۔جس طرح پتھر مضبوط سمجھا جاتاہے،اسی طرح پتھر سے بنے گھروں میں رشتے اور روایات بھی مضبوط اور دیرپا ہوتے تھے، کنکریٹ اور اینٹوں سے بنے گھروں کی بجأئے اُن گھروں میں ملاوٹ و تکلفات کا گذر نہیں تھا۔ سہولیات گرچہ زیادہ نہیں تھیں لیکن خلوص و اطمینان کے ذرائع بکثرت تھے جو کہ معاشرے کی یکجہتی کے لیے آکسیجن کی مانند ہیں۔
ہیڈماسٹر اور اساتذہ اس سکول سے بے پناہ محبت کرتے تھے اور نوزائیدہ آذاد وطن، پاکستان کے اس چھوٹے سے ادارے کو چلانے میں، سب اپنے گھروں سے بڑھ کر ایثار اور قربانی کا جذبہ رکھتے تھے ۔ سب تدریس کے عمل کو مقدس ترین پیشہ سمجھ کر سر انجام دیتے تھے۔
مولوی محمد سعید کواکثر بچے اور بڑے اُستاد صیب(صاحب) کے نام سے پکارتے تھے۔ وہ سکول کے مدرسی کے ساتھ ساتھ ، قریبی مسجد شاہ بابا کی امامت کے فرائض بھی سر انجام دیتے تھے۔ گردو نواح کے تمام بچوں کو قرآن شریف بھی پڑھاتے تھے اوراس طرح ثوابِ دارین کمارہے تھے۔
مولوی صاحب کی بی بی(بیوی) کو بھی اس نے قرآن شریف کا ترجمہ سکھا کر اُن کی خوبیوں کو چار چاند لگائے تھے۔ کچھ خود نیک سیرت تھیں اور کچھ قرآن حکیم کا ترجمہ وتفسیر پڑھ کے ،ان کی کردار میں مزید متانت ، خدا ترسی اور خوفِ خدا جاگزیں ہوا۔ وہ گھر داری کے ساتھ ساتھ گردو نواح کے چھوٹے اور بڑے عمر والی لڑکیوں اور عورتوں کوبھی کلامِ مجید سکھا تی ۔ چونکہ اُس زمانے میں عورتوں کی تعلیم ناپید یا نہ ہونے کی برابر تھی لہذا بی بی صاحبہ کو بھی اس علاقے کے لوگ بہت عزت و احترام کی نظر سے دیکھتے تھے۔
سکول میں اُستاد صاحب تمام بچوں کو اپنے بچوں سے ذیادہ محنت ومشقت سے پڑھاتے۔ وہ سب بچوں کو بلا امتیازِ ذہانت، بنیادی علوم سکھانا فرضِ عین سمجھتے تھے۔ وہ اس بات کے بلکل قائل نہیں تھے کہ کوئی بچہ غبی یا کام چور ہے, اُسے اس کے حال پر چھوڑ دیا جائے۔ نہیں ، وہ اُس وقت تک نالائق یا کام چور کو مسلسل توجہ دیتے تھے جب تک اُسے قابل اور کندن نہ بناتے۔ اس کے لیے وہ سزا و جزا دونوں سے کام لیتے۔ یہی وجہ تھی کہ اُنکے تقریبآ سارے شاگرد کامیاب و کامران رہے۔
اُن دنوں چونکہ مٹہ ( ضلع اپر سوات کا موجودہ صدر مقام) میں بازار نہیں تھا۔ یہ چند سرکاری مکانات، پرائمری سکول، ہسپال اور تحصیل پرمشتمل جگہ کا نام تھا۔ بازار دو کلومیٹر دور سمبٹ میں واقع تھا۔
سکول کے قریب کوئی دکان نہیں تھا اور نہ ہی پھیرے والوں کا تصور قریب کے علاقے میں موجود تھا۔ ہاں ایک پھرے والا کھانے کی چیزیں تفریح کے وقت فروخت کرتا تھا۔
مولوی صاحب اپنے کلاس کی الماری میں غریب طلباء کے لیے تختی، سیاہی اور قلم وغیرہ رکھتے تھے اور بوقتِ ضرورت اُنہیں مفت دیتے تھے۔ طالب علموں کے لیے قلم اور سیاہی خود بناتے تھے۔ سکول کے تحصیلدار ، ہیڈماسٹر اور سکول کے چوکیدار کے بیٹے ، سب کو ایک ہی نظر سے دیکھتے تھے اورسب سے یکساں سلوک کرتے تھے۔
اُستاد صاحب نے سکول کے صحن میں چنار کا ایک پودا لگایا تھا۔ اُستاد صاحب پودے کی آبیاری کا ضرور اہتمام کرتے تھے۔اگرچہ یہ کام اُن دنوں مشکل تھا ۔ پانی کی قلت کی وجہ سےیہ علاقہ اُن دنوں بے اب وگیاہ تھا۔ سکول ، تحصیل، ہسپتال اور سب گھر والے شاہ بابا کے مسجد کے قریب ایک چشمے سے اپنے لیے پانی بھر کر لاتے تھے۔
دن گذرتے گئے، ا اُستاد صاحب کا کنبہ بڑھ گیا تھا۔ اللہ کی فضل سے چار بیٹیاں اور چار بیٹے تھے۔ کچے گھر سے اب وہ پکے سرکاری مکان میں منتقل ہوئے تھے۔ بجلی اور پانی کا نلکا بھی موجود تھا۔ سہولتیں بڑھ گئی تھیں۔ سکول پرائمری سے ترقی کرکے ہائی ہوا۔ اُن کے اپنے بچے بھی تعلیم حاصل کرتے رہے، لیکن وہ زیادہ توجہ سکول میں شاگردوں کی پڑھائی اور مسجد میں قرآن سکھانے پر دیتے تھے۔
اُن دنوں تعلیم وتربیت دونوں پر یکساںزور دیا جاتا تھا بلکہ تعلیم کو کردار کی مثبت تبدیلی کا ذریعہ تصور کیا جاتا تھا نہ کہ وسیلۀِ روزگار۔ غرض اُن دنوں تعلیم وتربیت دونوں کا بیڑہ اُستاد اُٹھاتے۔
مولوی صاحب بھی ختمِ قرآن شریف کے بعد اپنے شا گردوں کو منیہ وخلاصہ ضرور پڑھاتے اور اس کے بعد مزید تعلیم و تربیت کی غرض سے سعدی شیرازی کے" بوستان " اور "گلستان" پڑھانے کا اہتمام کرتے۔ تاکہ وہ حکایاتِ سعدی سے زندگی گذارنے کا طریقہ سیکھے۔
وقت آگے بڑھا۔۔۔ ۱۹۷۰ ، ۷۱ عیسوی میں پاکستان کے ایک بازو کا ٹوٹ جانا ساری قوم کے لئے ایک ناقابلِ فراموش المیہ تھا۔ یہ صرف ایک علاقے کا جدا ہونا نہیں تھا۔ صرف
۲۳ سالوں میں جواں پاکستان اور پاکستانیوں کو تاریخ کا
یہ کربناک منظر دیکھنا پڑا۔ سب اس درد کو خاموشی کے ساتھ جھیلنے پر مجبور تھے۔ حالات کی نزاکت کو دیکھ کر والیِ سوات نے بھی اپنے عہدے سے سبکدوش ہو کر اپنے اختیارات حکومتِ پاکستان کے حوالہ کیے۔ ریاست سوات ملک کے دوسرے اضلاع کی طرع ضلع سوات کے نام سے یاد ہونے لگا۔
مٹہ کے علاقے نے ترقی کی تحصیلدار کی جگہ کمشنر آگئے۔ ڈگری کالج کا بھی اجراء ہوا اور لکچرر کے لئے بنگلے بن گئے۔ مٹہ میں ۱۹۷۳ میں پہلا گرلز پرائمری سکول کھل گیا۔ ہم سب طالبات بھی بواۓ سکول سے گرلز سکول منتقل ہوگئے۔
مولوی صاحب کے گھر کے سامنے ہی پروفیسر کالونی کے ایک بنگلے میں کمشنر رہائش پذیر ہوئے ۔ کمشنر صاحب نے ہی علاقے میں سب سے پہلے ٹیلی وژن کو متعارف کروایا۔ محلے کے بچے بہت شوق کے ساتھ ٹیلی وژن دیکھنے جاتے۔
مولوی صاحب درس و تدریس کے ساتھ ساتھ اپنے علاقے کے پسمانده اور غریب عوام کے حقوق کے لیے بھی دوڑ دھوپ کرتے رہے۔ غرض اُن کی زندگی خدمتِ خلق کے لیے وقف تھی۔ اُن کی دوراندیشی اورفہم وفراست کی وجہ سے پسماندہ طبقات میں اپنے جائز حقوق حاصل کرنے کا شعور پیدا ہوا۔
وہ چونکہ علاقے کے بچوں کے خیرخواہ محنتی اُستاد تھے ۔ اُنہیں محنت وایمانداری پر بےپناہ اعتقاد تھا ۔وہ کہا کرتےتھے کہ اللہ تبارک تعالیٰ کسی کی محنت و ایمانداری کو ذائل نہیں کرتا۔ یہی وجہ تھی کہ اُن کے بچے پڑھائی میں سکول کے ہیڈ ماسٹر کے بچوں سےبھی ہمیشہ آگے رہے۔
سکول سےریٹایرمنٹ کے بعد مولوی صاحب بغیر معاوضہ کے سرکاری مسجد کی امامت کرتے رہے۔ درس قرآن کا جو سلسلہ جوانی سےشروع کیا وہ جاری رہا۔
یہ دنیا ایک سرائے ہی تو ہے کیونکہ ہرکسی نے یہاں سے کوچ کر جانا ہے۔ کوئی ایک بھی یہاں ہمیشہ کے لئے نہیں رہ سکتا۔ سارے تلخ و شیریں حقائق ایک طرف اور موت دوسری طرف۔ اُس برحق کا نہ ٹلنے والا فیصلہ، سب ذی روحوں کے لیے یکساں، انتہائی تلخ اور جانکاه، لیکن اس حکمت والے کی حکمت کے تو زمان ومکاں ، ذی روح و بے جاں سب قائل ہیں۔اُسی کی تخلیق کو اُسی کی طرف پلٹنا، کاتب تقدیر کا برحق فیصلہ ہے۔
مولوی صاحب ۱۷ فروری ۱۹۹۶ کو ماہِ رمضان میں شب قدر کی رات ، ذکر الہی میں مشغول تھے۔ کہ فرشتۀِاجل نے دارِ فانی سے کوچ کرنے کا اسمانی فیصلہ سنایا اور وہ مصلےپر ہی بلہ رخ لڑک گئے۔ مولوی صاحب نے جاتے جاتے دنیا والوں کو عشقِ خداﷻ اور عشقِِِ رسول کا مفہوم زیرو زبر سے سمجھا دیا۔
آوازیں دور ہوتی جارہی تھیں۔
آج اسمبلی کے دوران گرلز ہائی سکول کی طالبات بہت خوش تھیں ۔ میں نے ایک طالبہ سے پوچھنا چاہا لیکن کلاس میں دیر ہونے کی وجہ سے بات موقوف کی۔ کلاس میں طالبات کی خوشی کی وجہ پوچھی تو پتہ چلا کہ حکومت نے ٹھیکیدار کو بوائے سکول کے چنار کے درخت کو نہ کاٹنے کاحکم نامہ جاری کیا ہے۔
میں نے پوچھا آپ کو کیسے خبر ہوئی۔ وہ سب یک زباں ہوکر بولی،" جی گرلز پرائمری سکول میں آج جشن جیسے سماں ہے کیونکہ اُنکا بھی ایک کلاس گرلز سکول کی طرف آنے والی چنار کےٹھنڈی چھاؤں میں بیٹھتا ہے۔"
میں نے بھی سکون کا سانس لیا اور محسوس کیا جیسے مولوی محمد سعید صاحب بھی مسکرا رہے ہو اور اللہﷻ سے دعاگو ہو کہ وہ ہر مہربان چھاؤں کو ہمیشہ کے لیے سلامت رکھے۔ آمین
Comments
Post a Comment