____________________
برگِ درختاں
نون سعید
انتساب
پیارے داجی( والد صاحب) اور
ابئی(والدہ صاحبہ) کے نام جن کی محنت
اور دعاؤں نے ناچیز کو بولنے، لکھنےاورپڑھنے
کا سلیقہ سکھایا۔ اللہ رب العزت اُن کو عرشِ . مُعلٰی کے سائے میں رکھے۔آمین
پیش لفظ
میری پستی بھی بلندی کی طلب رکھتی ہے
اے خداﷻمجھ کو مہیا کوئی زینہ کر دے
نون سعید
نون سعید(قلمی نام)
اللہ تعالیٰ کی توفیق کے بعد اُردو سے
پیاراورعقیدت نے مجھے اپنی مادری زبان
پشتوکی بجائے اردو میں لکھنے کی جسارت
بخشی۔ اردواہلِ زباں سےخامیوں اور
. کمزوریوں کے لیے معذرت خواہ ہوں۔
حمد باری تعالٰی
ابتداء ہے نام ربِّ ذوالجلال
جس کی ہرتخلیق ہے خود با کمال
هرکسی کا خالق و رازق ہے تُو
بحروبر, افلاک کے مالک ہے تُو
حکمت ودانش میں تُویکتا ہے ذات
لم یلد و لم یولد والا ہے ذات
تیری عظمت کی مثالیں عام ہیں
آفتاب و ماهتاب اور شام ہیں
طائرانِ صبح جو گاتے ہیں گُن
اُس کی لامحدودقُوت کی ہے دُھن
ذکرسےغافل نہ رہ اے میرے دوست
اُس کی رحمت عام ہے اے میرے دوست
لالہ و گل اور چمن ہیں نغمہ خواں
میں ہوں ناطق،کیوں نہ ہوں نغمہ سرا
اور نسیمِ صبح لاتی ہے پیام
تُو بھی پڑھ ہر دم جو اُس کا ہے کلام
تُوﷻ ہے شاہ، میں گدا
میں ہوں بندۀِ بے نوا
تُو ہے کُن، تُو وکیل
تُو ہےخالِقِ کُل جہاں
میں ہوں بے بس ندا
اے سمیعُ الدعا !
رازقِ کل جہاں اور میں ناتواں
!قصۀِمختصر, تُو ہےشاہِ شاہاں
ایک اللہﷻکی ذات ہے باقی ہے
نام اس کا ہی سب کو کافی ہے
بیل بوٹے جھکے ہیں مدح میں
سارا عالم ہے اُس کے قبضہ میں
زخم سارے جہاں کے دھوتا ہے
بے سکونوں کو سکوں دیتا ہے
جو ہے غافل، رہے گا وہ بےنام
کیوں نہ یہ صبح کریں اُس کےنام
قطعات و رباعیات
ثنا
یا ربِ ذوالجلال ، تُو ہی ہے لازوال
کیا خوب چارہ گر، خالق ہے بےمثال
کیا شانِ کریمی، قائم ہے جو مدام
"بصیر" اور" قدیر"، صاحب ہے باکمال
★ ★ ★
یا اِلٰہی مال و دولت، جاہ و حشمت تیرے ہیں
بندہ پرور تُو ہے اور سارے خزانے تیرے ہیں
تیری رحمت تو برستی ہے بیابانوں پہ بھی
صبح کی تازہ ہوا، یہ سب نظارے تیرے ہیں
ادب
غالب و میر پڑھتے , دنیا کو بھی سمجھتے
آتش اور درد پڑھتے، رٓمزِ جہاں سمجھتے
رومی و سعدی دونوں سے آشنا نہیں تم
اقبال کی "خودی" کو، اے کاش! کچھ سمجھتے
دُعا
مولٰیﷻ ہمیں مدام، اپنے قہر سے بچا
مظلوم کی آہوں سے، بُری نظر سے بچا
ظالم کی نظر سے تُو ہمیں دور رکھ سدا
اِس دل کوندامت سے، ریا ، حسد سے بچا
★ ★ ★
حمدباری تعالٰی
تیری عظمت سے تو واقف ہے یہاں خرد و کلاں
تیری عظمت پہ ہیں قربان میرے حرف و بیاں
میں نے سوچا تھا بیاں کردو میں دل کی حالت
تُوﷻ نے لب ہلنے سے پہلے ہی سُنا، دل کا بیاں
مُشکلیں زیادہ ہو درپیش تو تُو ربط بڑھا
ایک"ھُو" کرنے سے ہو جاتے ہیں ہر کام آ ساں
چاند، تارے سبھی واقف ہیں اپنے آقا سے
دلِ دیوانہ کی شدت کا تو ہے اور سماں
میرا یہ دل، کبھی فریاد کا قائل ہی نہ تھا
تیرے دربار میں فریاد کاہے اور مزا
مجھ کو معلوم نہ تھا، میرا ٹھکانہ ہے کہاں؟
اُس کے اِک نظرِ کرم نے کیا سب کام آساں
نون دربارِ اِلٰہی میں جھکے سر کے ساتھ
کاسۀِ خیر لیے ، روز کرو اُس کی ثنا
★ ★ ★
حمد باری تعالٰی
(کاش! میں اِس کا انتظام کروں)
یہ طایرانِ وطن ، صبح دم
خالقِ کل جہاں کی حمد و ثنا
بِن تھکے یوں بیان کرتے ہیں
,جیسے یہ وقت تھک نہیں جاتا
،اور تارے ضیاء لُٹا نے میں
سالہا سال جوں چمکتے ہیں
کوئی بھی لحظہ بھر نہیں رُکتا۔
میری کوتاہیوں کا قصہ بھی
کاش! گھٹتا رہا مثالوں سے
کاش !یہ سوچ لیتی ہر لمحہ
میں بھی خالق کے روبرو ہوگی
اس حقیقت کو اپنے پلُّو سے
رات دن، صبح وشام باندھو میں
کاش! کچھ ایسا انتظام کروں
تجھ سے غافل نہ ایک لمحہ رہوں
کاش! کچھ ایسا انتظام کروں
حمد باری تعالٰی
تو ھے شاہ ، میں گدا
یا حنٗانُ،یا منّانُ ،یا ذو القوٗ ةِ المتین
یا قائمُ ، یادائمُُ ،یا اَحسنُ الخا لِقین
تُو ہے شاہ، شہنشاہ اور مالکِ دوجہاں
. تو رزّاق تُو فتّا ح ،مالکُ المُلکِ والیقین
. تُو ہے شاہ ،میں گدا ، تورحیم اور کریمﷻ
میں ہوں بے بس سدا، تُوہے خیرالوارثین
. . ساری دنیا کے حاکم ہو پھر بھی حلیمﷻ
تُو غفور الرحیم، تُو ہے خیرُُ الرّٰزقین
. یہ زمیں آسماں ، تیرے زندہ نشا
صاحبِ کل جہاں،احسنُ الخا لقین
. ہے ازل تا ابد ،صرف تُو،تُوہی تُو
توہے قائم سدا، ارحم الراحمین
* * *
یہ وطن صرف مٹی کا ٹکڑا نہیں
اس کے دامن کو تُو نےبھی پکڑا نہیں
یہ ہے تاریخِ ہند و عرب کی خمیر
اہلِ دل اور زباں ہیں یہاں کے شہیر
ایک اللہ کے در کے ہیں سارے فقیر
سب سےبڑھ کرہیں شہری یہاں باضمیر
مار اُن پر سدا جو بِکے، بےضمیر
اُٹھ بھی جاؤ، کسی نےتو جکڑانہیں
یہ وطن صرف مٹی کا ٹکڑا نہیں
یہ ہے لاجِ عجم اور ف
★★★
میں بھلا کیوں اِدھر اُدھر دیکھوں
ہر طرف تو ہی ہے، جدھر دیکھوں
کیسی ہلچل مچی ہے دنیا میں
اک حر٘ص عام ہے جدھر دیکھوں
اُس کی عظمت کے رنگ بکھرے ہیں
بادلوں میں بھی، میں گوہر دیکھو
صبح دم سارے کائنات کے رنگ
اُس کے پرتو ہے یہ اثر دیکھو
شام کے وقت طائروں کے غول
سر جکھائے ہوئے شجر دیکھو
اُس کی عظمت کوجس نے جھٹلایا
"نِیل "سے نکلے تاجور دیکھو
خاکساروں کو راس آئی ہے
اُس کی تعریف تم بھی کردیکھو
وہی میرے لیےکافی
وہﷻ قائم ہے، سہارا بے سہاروں کا وہی کافی
وہی رزّاق بندوں کا، وہی خالق ، وہی کافی
وہی اِک ذات یکتاہے جودل کی تہ سےہے واقف
وہی ہے چارہ گر میرا، میرے دکھ کا وہی شافی
وہی ہےکُن،وہی حافظﷻ ، وہی تیرےلیےکافی
وہی اِک ذات قائم ہے، وہی سب کے لیے کافی
دلوں کا حال سب جانے، نوازے سب کو بِن مانگے
وہ تنہا سب سےہے بہتر ، وہی میرےلیے کافی
نعت شریف
عرب اورعجم کو باہم ملانے والاﷺ
"وہ اپنے پرائے کا غم کھانے والا"
کلامِ الٰہی کا وہ ہے نمونہ
وہ سب کچھ زمانے کو سمجھانے والا
الہی تیرا فضل ہر دم ہو اُن پر
کہ توﷻ ابرِرحمت ہے برسانے والا
میں کیسے درودِ محمدﷺ بھلاؤ
میرا زیست ہے، یہ امر کرنے والا
نعت شریف
(جھوم کرآئی صحرا میں بادِ شمیم)
آپ سااس زمانے میں کوئی نہی
آپکے بِن ہمارا تو کوئی نہیں
آپ ﷺ رحم و کرم اور پیار کا دریا
چھاوں ہی چھاوں ہےجو ہےآپ کا قریہ
آپ ہر دکھ کادارو، ہرجلےدل کا مرہم
آپ جس سےخفا، ہےخدا اُس سےبرہم
نا م تیرامحمدﷺ،، عام تیری محبت
عاصیوں کے لیے عام تیری ہےرحمت
ہے گلوں میں ہویداں تیری رنگ و بو
کہ ہے تُو باعثِ ہستئِ رنگ و بو
تیری اُمت ہے بےدست و بےیار وخوار
تیرے نظرِ کرم کے ہیں سب طلب گار
جب ہوا کاظمہ سےچلی اے نسیم
جھوم کرآئی صحرا میں بادِ شمیم
*****
میں طائرانِِ چمن سے بیاں میں پیچھے رہی
قلم ہے ہاتھ میں پر یاد میں، میں پیچھے رہی
جہاں حضورﷺکی گلیاں ہیں ، پھول و گُل ہیں وہاں
نہ جانے کیوں وہاں میں قافلے سے پیچھے رہی
کبھی جو دل سے میری نکلی اک دعا پُرسوز
اُسی دُعا کو مانگتی ہوئی میں جیتی رہی .
میرا خیالِ تخیل بھی کھو گیا ہے نون
لڑی جو آنسوؤں کی نکلی، شام روتی رہی
******
ادب کا دامن کہیں نہ چھوٹے
میرے نبی کی گلی ہے لوگوں ادب سے نا صرف سر جھکا لو
دلوں کو دھو لو، زباں کو تولو، ادب کے قریےمیں دل بچھالو
یہی پہ اُتری کتابِ حکمت، یہی سے اُپجی ہے نخلِ
رحمت
یہی وہ قریہ کہ جس کی چاہت میں دل کی انکھوں کو تم بچھالو
ادب کادامن کہیں نہ چھوٹے، وفا کی حد بھی کہیں نہ ٹوٹے
محبتوں کے امین بن جا، دلوں کو ناسور سے بچا لو
رومی و سعدی
جوبرگ سبزِدرختاں کے ہیں انہیں دیکھو
جوفروزاں حقیقتیں ہیں بس اُنہیں سوچو
کہ خشک ٹہنی پہ پتی کہاں سے یہ اُپجی"
"ہوا کے دوش پہ مُرلی کہاں سے یہ اُبھری
جو تار دل کونہ چھیڑے وہ ساز کیسا ہے
جو نغمہ دل سے نہ نکلے، وہ نغمہ کیسا ہے
جس نے دفتر کئے لکھ ڈالے اُسﷻ کی مدح میں
کیوں نہ ہو جائے امر وہ اُسی کی مدح میں
کیوں نہ ہوجائےخاص الخاص اس جہان میں وہ
مثلِ قطبِ سُخن وہ چمکے دو جہان میں وہ
****
چمن میں بادِ صبا تازگی سی لائی ہے
گُلوں نے سر کو جھکایا سلام کرکے اُسے
خوشی سے جھوم اُٹھی رنگتِ چمن ایسی
کہ جیسے قوس نے رنگِ چمن نکھاری ہو
*****"
یہ جو سوزِ جگر ہے
یہ جو سوزِ جگر ہے، یہ جو سوزِ جگر ہے
اس کو کیا نام دوں میں، یہ جو سوزِ جگر ہے
چارہ گر تُو کہاں ہے، سر پہ صرف آسماں ہے
کیسے کم ہوگی داتا، یہ جو سوزِ جگر ہے
درد گرچہ بڑھا ہے، مثلِ اَب و ہوا ہے
بھسم سب کو نہ ڈالے، یہ جو سوزِ جگر ہے
کیسے ہوگی سحر، میرے مولا اِدھر؟
خاک چھانی یہاں، سب کو تولا ادھر
میں ہوں بے بس سدا، چارہ گر تُو بتا
کیسے کم ہوگی ہائے! یہ جو سوزِ جگر ہے؟
فرد
صبح دم کتنی مسرت سے سحر جھوم اُٹھی
شام کے مضطرب بیمار ، شفایاب ہوئے
★ ★ ★
کچھ "درد" کے مارے ہوئے مشکور بہت ہیں
آنکھیں جو کھل گئیں ہیں زمانے کو جان کے
★ ★ ★
عاجزی
سوبار کیے سجدےاور مانگ لی دعائیں
ہر بارلوٹی خالی، دامن یہ رہا خالی
گھبرا کے ہاتھ اُٹھے ، بےوار اور لرزاں
کچھ تھا نہ میرےلب پہ، پردل میں گڑگڑائی
تھےاشک میرےزم زم اور ہاتھ میرےنم نم
شاید کہ وقت تھا کم ، پَر درد میرا یا غم
آنکھوں سے چھلک آیا اور دل میرا بھر آیا
تھا عاجزی کا دریا جو موج بن کے چھایا
پھر کیا تھا دوست و ہمدم، اپنے اور پرائے
جومجھ سےتھےگریزاں اورمیں بھی اُن سے نالاں
سب مل گئے وہ مجھ سے جیسے کہ خضر آئے
اِک راہ جو دکھائے اور خیر و سحر اِئے
رحمت اُسی کی برسی ، جیسےکہ مینہ برسے
برسوں کے درد سوئے اور بھاگ میرے جاگے
نا شکر میں تو ہںو ہی پر آج میں نے مانا
کہ عاجزی ہے بھاری ریاضت سے، میں نےجانا
*****
برگِ درختاں کیا کہیے
دن کی تھکاوٹ، رات کےسائے، چاک گریباں کیا کہیے
ٹھوکریں کھائے،روندے جا ئے، زخمِ گریزاں کیا کہیے
یادمجھے ہےصبحِ وطن تُواوروہ جگ مگ کرتےتارے
کھیت اور کھلیاں ،نہراورنالے، برگِ درختاں کیاں کہیے
جھومتے بچے ،گھومتے رستے،اپنے پرائےگھل مل کے
رنگ دھنک کے،جھومتے دریا ، ابرِ بہاراں کیا کہیے
!دور شجرپہ بلبل گائے، سب کو رلائے ،ہائےہائے
دل میرا ڈوبے، یاد میں کھوئے ،شامِ غریباں کیا کہیے
یادیں وہاں کی ہر سُو پھیلی، گلیوں اور کہساروں میں
حُسن وہاں کا جیسےہرمُکھ، ماہِ کنعاں، کیا کہیے
نام تمہارا پاکستاں ہے،تجھ پہ میری جاں قرباں ہے
سارےجگ میں تجھ سا کہاں ہے ،جانِ مسلماں کیا کہیے
*****
آب دار تاب دار، ماہتاب اے وطن
اے وطن شاد باد،آفتاب اےوطن
میرےپیارےوطن ،جان تجھ پر فدا
تو عقیدہ میرا، آن تجھ پر فدا
تُوامن، تُوصنم، سائبانِ چمن
اہلِ دل کے لئےآستانِ سخن
تحفہ اُس نےزمیں پرعطا کردیا
میرےمولانےسب کچھ عطا کردیا
ہم کوتوفیق دیں کہ بھرم رکھ بھی لیں
آگےبڑھنےکےاک دوقدم رکھ بھی لیں
تیرےرکھوالوں اور جان نثاروں کےساتھ
کچھ ہیں بدخواہ بھی ان جیالوں کے ساتھ
تجھ کو اللہ ﷻ دیں رہزنوں سے نجات
تیرے لوگوں کو دیں سب غموں سےنجات
. داجی
بہ مثلِ عود و عطر ،پھیل کر کہاں گذرا
(والد صاحب کی یاد میں)
) تاریخِ وفات:۲۷ رمضان
بمطابقِ ١٧ فروری ١٩٩٦
اُس کو گذرے ہوئےدوراں گُذرا
مجھ کو روتےہوئےعرصہ گُذرا
حاصلِ وقت و حاصلِ درماں
ایک ہی وقت میں کیا کیا گذرا
میری مجبوریوں کا ما حاصل
کچّے رستوں پہ گرد سا گذرا
دل میں اک ہوک اُٹھ رہاہے دوست
کیا کہوں روٹھ کر جہاں گذ را
کیوں نہ ہوں دل اُداس و رنجیدہ
سنگ تھا جس کا، سہارا گذرا
اُن کی یادوں کو چھیڑ بادِ نسیم
جن کو دیکھے ہوئے عرصہ گذرا
وہ جن کےدم سےتھیں مکتب کی رونقیں ہردم
بہ مثلِ عود و عطر ،پھیل کر کہاں گذرا
*********
خراجِ تحسین
ہزارہ یونیورسٹی کےپروفیسر
اورقابل قدرسائنسداں، عزیزبھائی
ڈاکٹر حبیب احمد کےنام
ایک روشن ستارہ سوات کا جو
دور "ڈوڈھیال میں ہے چمکا وہ
علم کےآسماں کا شہر ہے وہ
جہد و جذبےکا پورا شہرہےوہ
علم کا بحر بےکراں ہے وہ
جہد کا اِک نیا بیاں ہے وہ
روشنی کا وہ اک مینارہ ہے
بحرِ قلزم کا وہ کنارہ ہے
عاجزی میں بھی سب سے بڑھ کرہے
خدمتِ خلق میں بھی برتر ہے
ہے ہزارے میں اُس کا جائے قیام
سوات والوں کےلیے ہے وہ عام
اُس نے کم ہی دنوں میں نام دیا
"اس" جامعے کو سندِ عام دیا
وہ جہاں بھی رہے اُبھر کے رہے
ثمر شجر کے رہے اور ہواسحر کےرہے
اگست۲۰۱۰ر
*****
ڈاکٹرحبیب احمد تمغہِ امتیاز
کی یادمیں
تاریخِ وفات 7اپریل2021
(پاکستان کے مایہ ناز سائنسداں اور میراعزیزبھائی)
بیل بوٹے شجر لگا کے گئے
وہ چارہ گر دوا لگا کے گئے
اپنے سب خواب دل میں وہ لیکر
غمِ حیات کو سلجھا کے گئے
وہ جسے ہم نہ سمجھ پائے تھے
ساری دنیا کو وہ سمجھا کے گئے
وہ شہر یار وعلم دوست حبیب
دِئےجلا کے، گل سجا کے گئے
نشۀِ زیست سے واقف تو رہےپھول وشجر
قضا کا رنگ، حنا کی طرح جما کے گئے
نہ پوچھ حالِ دلِ زار مجھ سے اے لوگو
وہ چارہ گر نہ جانے کیسے؟ سب ملا کے گئے
کبھی توآئے ادھر ہم بھی اُن سے پوچھے
زرا
نہ جانے کیسے ہیں، وہ سب کو یوں رلا کے گئے
شبِ فراق کو اِک دن تو ویسے آنا تھا
مگر یہ کیا کیا ؟سب دیپ یوں بجھا کے گئے
اُسی کا کرم تجھ پہ برسے یوں ہی شام ومدام
وہ جس کے قُرب میں سارا جہاں بُھلا کےگئے
لوگ"چڑھتے ہوئے سورج کے شناسائی ہیں
کیسے گرتے ہوئے رہرو کے شناسائی بنے
رونقِ زیست تو بڑھتی ہے ملنساری سے
وہ جیت کیسی جو اوروں کی دلآزاری بنے؟
میں ہوں بے نام سا ، نادم سا بندۀِ ناچیز
میں تیرے نام کو لیتا ہوا گھبراتا ہوں
___________
کون نکلا ہے تیرے حلقۀِ ہستی سے بھلا
یا رہے قیدِ حیات "یا " رہِ عدنِ مُدام
قفس" بھی رو رہا ہے آج خالی ہوگیا پنجرہ😪
جو نکلے قید سے، پیچھے مڑے اور کہہ گئے خوش رو
تشکر! پھر تشکر! اے قفس، اے دوستِ من، مت رؤ!
ملیں گے پھر کبھی، ہستی رہی، باید کہ یا شائد!
وگرنہ زندگی ویسے بھی ہے یادوں کی در آمد
__________________
کیا حال ہمارا ہے، یہ کون پوچھتا ہے؟
کیوں دیر کردیا ہے یہ سارے پوچھتے ہیں
اپنوں سے کیا شکایت ، غیروں کی کیاحمایت
گردش میں ہو ستارے توسر بھی گھومتے ہیں
غزل
کیوں میرے نارسائی سے سب یوں بدل گئے
غیروں کی بات چھوڑ ، اپنے ہی بدل گئے
وہ شخص جن کے واسطے جینا ہوا حرام
منہ پھیر کر، کہیں سے کہیں کو نکل گئے
وہ جن کو دیکھ کرہمیں ملتا تھا اِک سکون
کیوں؟ اُس کی چاہ کے سبھی رستےبدل گئے
پل بھر میں جانے کیسے رُت ہی بدل گئی
جوں ہی فنا نے تھام لیا، سب سنبھل گئے
انجامِ کار ہم کوبھی جانا ہے اُس شہر
یہ سوچ، سوچ کر کیوں ابھی سےدہل گئے
اے نونٓ تُو ہمیشہ رہی جن کی مُنتظر
"وہ" عرصہ ہوگیا ہے شہر ہی بدل گئے
تاریکیاں تو اپنی مقدر میں تھیں ہمیش
کیا تُوبھی اُن کو دیکھ کے رُخ ہی بدل گئے
_____________________
میری زباں کو بھی تاثیرِ التجا دے دے
میری حیات کوبھی رنگِ کارواں دے دے
میں ایک شاخِ بریدہ ہوں، میرا کیا ہے یہاں
اسی بے رنگ پیڑ کو بھی کچھ ہوا دے دے
حیات ویسے بھی ناپید ہے زمانے میں
بہ مثلِ موجِِ رواں ، نکہتِ صبا دے دے
نہ میرے لفظ مؤثر، نہیں اعمال میں رنگ
میرے نوکِ قلم کو رنگتِ دوا دے دے
نہ بید ہوں، نہ گرد و پیش سے ہوں لاپروا
یہ سوزِ دل ہی تو کافی ہےاور کیا دے دے
نہ ہے حیدر سا حوصلہ، نہ کوئی جاہ وجلال
مجھے مرغانِ سحرجتنا حوصلہ دے دے
وہ یاد جس سے فروزاں ہے دل اورآنکھیں تر
اُسی پہ ناز ہے ، کچھ اور ہی جِلا دے دے
_____________
کرسیئِ اقتدار
آپ تو لوٹوں میں گِر کر خود بھی لوٹے ہوگئے
بھول کر وعدے سبھی اور خوب موٹے ہوگئے
چاہ اس " کرسی" کےمت پوچھ، زندگی ہے زندگی
کیا کھرے ہیں اور کھوٹے ؟ اس پہ لٹھو ہوگئے
تب اور اب
آپ کو اکثروبیشتر مار پڑتی یار کی
ماں سےگھر میں بارہا،اسکول میں سرکار کی
اب بڑے ہوکر یہ کیا ہے گردش تقدیر بھی
باس ہے دفتر میں غصہ گھر میں جھڑکی نار کی
. جو حق کو مانو۔۔۔
اُٹھ بندۀِ ناشکرا ،شب تو گذر چکی ہے
بلبل بھی گا رہا ہے،وقتِ سحر ہوئی ہے
راہِ حیات میں کیوں تو یوں بہل گیا ہے
کچھ سوچ لےاےظالم! سورج بھی ڈھل گیا ہے
اور ذادِ راہ دیکھو، تھیلی ہے تیری خالی
اپنےہی گلستاں کا اِک طرح تُو ہے مالی
مت پوچھ بے خبر ہو کتنے یہاں سے گذرے
کچھ مست اس نگر میں ، کچھ صالحین گذرے
یہ جائے امتحاں ہے، کچھ خیر لے کے جاؤ
تنہائی کے سفر میں کچھ ساتھ لے جاؤ
اُس خاردار رستے میں تم اکیلے ہونگے
رستہ طویل ہو گا، ہر سُو اندھیرے ہو نگے
لو! آج سوچ لوتم اور ربﷻ کی بات مانو
دونوں جہاں کی راحت پاؤ جو حق کو مانو
____
ہم بندگانِ رب ہیں، ہمیں اُس پہ بھروسہ
باطل رہے گا نیست یہ ہے اپنا کا تجربہ
___________
مال و بنوں کو ذینتِ دنیا بنادیا
عیشِ جہاں کو باعثِ حسرت بنادیا
خوف خداکو شرف دیا ہر لحاظ سے
غافل کو اِس جہاں میں بھی عبرت بنادیا
سب کو ملےگا اُس کا کیا، ہے کتاب میں
ہاں! "مقرَّبین" کے لیے جنت بنا دیا
پاکستان
دامنِ کوہ میں جو شہر ہے، آباد رہے!ے
خواہ قلات ہو، لاہور ہو, سب شاد رہے
میرے اللہ تُو برسا دیں ایسا ابرِکرم
تمام نفرتیں بہہ جائیں، دل گداز رہے
لڑو بھڑو مگرمیرے وطن کا نام نہ لو
!یہ ہے اسلام کا قلعہ، سدا آذاد رہے
****
شفقت میں بدلتے دیکھا
میں نےہوشیار سے ہوشیار کو گرتے دیکھا
صرف اُسی ذاتﷻ کے ہر داؤ کو چلتے دیکھا
کاش! ہم اُسکی طرف بھاگے ، جیسےبھاگتےہیں
غمِ روزگار میں ہر ناؤ کو چلتے دیکھا
اُس کے رحمت کے در کو بند نہیں پایا ہے
اُسی اک درسے جُڑے سب کو سنبھلتے دیکھا
کون تقدیر سے آگے بڑھا ہے تو ہی بتا
اُس کی مرضی کے مطابق سب کو ڈھلتےدیکھا
میں ہوں فریادی مگر کیسے بیاں حال کروں
میں نےہر حال میں اِس دل کوہی جلتےدیکھا
کیا کروں، کیسےکروں، کوئی سلیقہ ہی نہیں
میں نے اُس کو بھی کئی بار پلٹتے دیکھا
"اُن کےآجانےسےآجاتی ہے منہ پر رونق"
دلِ ویراں کو کئی بار بہلتے دیکھا
پھول اور کانٹے تو یکجا ہوئے اک ڈالی میں
اپنی دنیا کو بھی سو بار لُٹاتے دیکھا
وہ جو تقدیر کا لکھا ہے ٹل نہیں سکتا
ساری دنیا کی حقیقت کو مٹاتے دیکھا
اُس کا مقروض توویسےبھی ہیں ہرجن و بشر
شُکر اور ذکر میں رحمت کو اُبھرتےدیکھا
وہ جو پیمانۀِ اِنصاف کا مالک ہے سدا
اُس کی ہر نظرکوشفقت میں بدلتےدیکھا
****
میری زباں کو بھی تاثیرِ التجا دیں دے
میری حیات کوبھی رنگِ کارواں دیں دے
میں ایک شاخِ بریدہ ہوں، میرا کیا ہے یہاں
اسی بےرنگ پیڑ کو بھی کچھ ہوا دیں دے
حیات ویسے بھی ناپید ہے زمانے میں
بہ مثلِ موجِِ رواں ، نکہتِ صبا دے دیں
نہ ہیں الفاظ، نہ اعمال میرے پُر تاثیرم
مجھے بھی نظرِ کرم کا کوئی جلوہ دیں دے
نہ بید ہوں, نہ گردو پیش سے ہوں لاپروا
یہ سوزِ دل ہی تو کافی ہےاور کیا دےدیں
نہ ہے حیدر سا حوصلہ، نہ کوئی جاہ وجلال
مجھے مرغانِ سحرجتنا حوصلہ دے دیں
وہ یاد جس سے فروزاں ہے دل، وآنکھیں تر
اُسی پہ ناز ہے،کچھ اور ہی جِلا دے دیں
********
تغیر
بیتے ہوئے دن آج بہت یاد آگئے
برسات کی شامیں و سحر یاد آگئے
گرمی کا تصور تھا ، نہ سردی کا کوئی خاص
دن رات مگن خود میں تھے، آئےبھی کوئی خاص
گلیوں میں پِھرا کرتےتھےبےخوف وبےخطر
اپنا ہی اپنا ہوتا تھا ہر پیڑ و ہر شجر
کام آتے ہرکسی کے، بِن صلہ کوئی ملے
خوش ہوتے ہر کسی کی خوشی سےبِناجلے
اِخلاص اورخلوص کا تھا راج ہر کہیں
برق اور طور بِن بھی روشنی ٹھی ہرکہیں
وہ میٹھا آب، ساگ وثمر جانے کیا ہوئے
وہ سادہ لوح و بے دھڑک مزاج کیا ہؤے
کاغذکےپھول ہوگئے سارےچمن کےپھول
اپنےہیں، کیا پرائے،بھروسہ ہےایک بھول
***************
برسات میں" لاہور "ہے ہر سمت سے راوی
بچے، بڑے ہیں خوش کہ ہوا سرد ہے جاری
گرمی کی سقالت گئی اِک نظرِ کرم سے
دھقاں و کھیت دونوں ہیں موسم کے شیدائی
کیا خوب موسموں کا ہیں، پلٹا و پلٹنا
ہر زرہ، اُس(ﷻ) کا عکس ہے، ہر زرہ ہے بھاری
"لاہور" کی برسات سے ٹھنڈک بھی بڑھی خوب
اور سوات میں سردی کا سماں تب سے ہےجاری
اور تُو جاوداں
تُو غنی میں گدا،میرے پیارے خدا
ساری دنیا تیری، تُوہی ہے شہنشاہ
یہ مظاہر تیرےشان کی ہیں گواہ
کیسی بارش برستی ہےشاخوں پہ دیکھ
کیا عجب سلسلہ ہے عجب کارواں
چاندسورج سبھی مدتوں سے رواں
، یہ پہاڑ اور دریا اور یہ ریگستاں
یہ ہوائیں بھی دیتی ہیں تیری صدا
توچھپا، تو عیاں، تُو ہے مشکل کشا
کبریائی تیری اور تُو جاویداں
آنکھ دیکھےافق تک اور تکتی نہیں
یہ ہےخلاق کی نعمتوں کا بیاں
اک دیا وہ جو بجھ گیا دل کا
وہ تو تھا اس حیات کا ماحاصل
،رمق باقی نہیں رہا دل میں
سو دیے پھر جلا کے لاحاصل
-چار سُو گرچہ روشنی کردی
دل کے ویراں و بے نشاں کونے
آخری وقت تک رہے بےکل
دردو کرب اور بڑھ گیا ناصح
تیرے یادآوری سے کیا حاصل
******
اور ندامت سے گِڑگڑانے لگی
صبح۔دم جب سحر کو میں اُٹھی
آسماں اور ستارے گویا تھے
چاند کی روشنی بھی گویا تھی
ورد میں کائنات گم سم تھا
نخل پہ طائرو کا چوں چا چوں
سبزے پہ اُوس کے دھمکتے گُل
منہ چھپا کر ثنا میں تھے گم سم
اور منظرکو جان بخشی تھی
پھول وگُل جھوم کر جوبول اُٹھے
پتیاں بھی کرم کے خواہاں تھیں
بارہاں سر جھکاکے روئی تھیں
پانی جھیلوں میں بے صدا لزاں
جبل بھی خوف سے گریزاں تھے
صبح کا جھٹ پٹا بھی مائل سا
رات کو پیچھے چھوڑ،گھائل سا
تیرے قدرت کے کارخانے میں
سارے جان دارو بے زباں , دانا
زکراور حمد میں تھے یوں گویا
جیسے ہر ایک سے ہو بے پروا
میں بھی دھیرے سے سرجھکانے لگی
اور ندامت سے گِڑگڑانے لگی
******
کتاب رب کو ہمیشہ تھامو،
اس کے احکام کو ہر جا مانو
اسی میں نسلوں کی ہی بھلائی ہے
،اگر یہ راز تم سبھی جانو
حکایتیں بھی، ہدایتیں بھی،
اسی میں رازِحیات ہے بھی
یہی دعا بھی ، یہی دواہے
اسی کے حکمت کو آج مانو
*********
شوقِ آوارگی کا کیا کہیے
طنزونشتر جہاں کے کیا کہیے
لطفِ بادہ وجام بھی بہتر
سجدۀِِ دل کا لطف کیا کہیے
سنگ بھی راہ کےنہ کمتر جان
جب برسنے لگےتو کیا کہیے
غیرتِ عشق کو بھی چھوڑ آئے
جونبھائےنہ ہم سے کیا کہیے
اُس کی دامن کےچھید دیکھےہیں
سطوت و شان دل کا کیا کہیے
اس گلی میں بھی شام آہی گئی
صبح کےبھولے، لوٹے ، کیا کہیے
دن گذرتے ہیں پر تیری یادیں
میری ہرسُو ہیں بکھری کیا کہیے
ہو یہ شامِِ غزل، نہ ہجراں ہو
تندرستی بھی ہو تو کیا کہیے
فیض و اقبال کو سلام بہت
میر و غالب کی بات کیا کہیے
مال و بنوں کو ذینتِ دنیا بنادیا
عیشِ جہاں کو باعثِ حسرت بنادیا
خوف خداکو شرف دیا ہر لحاظ سے
غافل کو اِس جہاں میں بھی عبرت بنادیا
سب کو ملےگا اُس کا کیا، ہے کتاب میں
ہاں! "مقرَّبین" کے لیے جنت بنا دیا
وطن کی پکار
وطن" نے آج پکارا ہےاپنے بیٹوں کو"
میرا دشمن بنا رہا ہے عدو بیٹوں کو
کبھی پنجاب،کبھی سندھ کو لڑاتے ہیں
کبھی بلوچ میری گود کو بھلاتے ہیں
تجھے کیا ہوگیا ہے جان لیں دشمن کو زرا
تیرے ایمان و گھر اُجاڑنے پہ وہ ہے تُلا
وہ ہےعیار مگر تُو تو اُٹھ خدا کے لیے
یہ سامری کا سحر توڑ دے سدا کے لیے
گر آج متحد ہوئے،توجیت جاؤں گے
ورنہ تاریخ کےصفحات سےمٹ جاوں گے
★★ ★
موبائیل
اک شاعری کا خبط تھاسو وہ بھی چھٹ گیا
موبیل" کے آنے سے سماں اور بندھ گیا"
راتوں کو جاگ، جاگ کے تُک بندی خوب کی
چھوٹا سا اک بیاض تھا سو وہ بھی جل گیا
تھا شوق جس کا مول جہاں میں کوئی نہیں
چولہے میں جلنے کے لیے، ایندھن وہ بن گیا
پڑھتی ہوں، بھیجتی ہوں، مٹاتی ہوں ایس- ایم ۔ایس
غافل ہوئی جہاں سے کہ مصرف یہ رہ گیا
(کمپوزنگ اور تصحیح جاری ہے)
Comments
Post a Comment