گُلدستہِ اُردو
گلدستہِ اُردو
فہرست
*اورآفتابِ عمر لبِ بام آگیا
* ترغیب *
* مرزا غالب *
*گوہرِ نایاب*
* (مفلوج (افسانہ*
___________________****__________________ . . . . .
اور آفتابِ عمر لبِ بام آگیا
___________________
سورہ محمد میں اللهﷻ فرماتا ہےُ ،"اللہ بےنیاز ہے اور تم سب محتاج اور اگر تم منہ پھیرو تو وہ
تمہارے سوااور لوگ بدل لے گاپھر وہ تم جیسے نہ ہوں گے۔
لیکن محتاج ہوکے بھی یہ انسان کہیں نمرود تو کہیں فرعون بنا بیٹھا ہے۔اپنے اپنے بساط کےمطابق نافرمانیوں اور لہوو لعب میں مشغول ہے ۔ بادشاہِ قضا وقدر سے غافل ، نفس کا پجاری بن کے رہ گیاہے۔
بیشتر لوگ دنیاوی زندگی کے بارے میں زیادہ فکرمند رہتے ہیں۔ وہ اس دنیا کی سہولیات حاصل کرنے اور اسے بہتر سے بہتر بنانے میں لگے رہتے ہیں۔ یہاں تک کہ دعائیں اور وظائف بلکہ ساری کاوشیں ،صرف اسی فانی اورناگہاں ختم ہونے والی دنیا کے لیےہوتی ہیں ۔ اسی تگ ودو میں اکثر اللہﷻ کی رضا تک بھول جاتے ہیں ،جہاں سے بدقسمتی شروع ہو جاتی ہے ۔
رب تعالیٰ انسانوں کی رہنمائی کے لیےبار بار قرآنِ حکیم میں انہیں یاد دلاتا ہے کہ موت کی تلخی اور بعد از مرگ حساب کتاب کا عمل برحق ہے ۔ سورہ جمعہ میں ربِ کائنات فرماتا ہے، " آپ ان سے کہہ دیجیےکہ جس موت سے تم بھاگتے ہو،وہ تم کو آپکڑےگی،پھرتم اس پاک پروردگار کی طرف لےجائےجاونگے ۔جو ہر پوشیدہ اور ہر عیاں چیز کو جاننے والا ہے، پھر وہ تمہارے اعمال تجھے بتلائے گا(اور انکا بدلہ دےگا)۔
نبی کریمﷺ اکثر فرمایا کرتےتھے کہ لذتوں کو بھلانے والی چیز یعنی موت کو زیادہ یاد کیا کرو۔
جناب محمد مصطفیﷺ سے ایک نوجوان نے عرض کیا " یا رسول اللہ ﷺ مومنین میں سب سے زیادہ سمجھ دارکون ہے ؟"
آپ ﷺ نے فرمایا ،"موت کو کثرت سے یاد کرنے والا اور اس کے انے سے پہلے اس کےلیے بہترین تیاری کرنے والا۔
اگر غور سے دیکھا جائے تو انسان ابتدائے آفرینش ہی سے خودغرض، ناشکرا اور جلد باز ثابت ہںوا ہںے۔ مال ودنیا کی محبت اس کی گھٹی میں شامل ہںے۔انہیں چیزوں سے ربِ عزیز از جان سب کو آزما رہا ہںے۔ سب جانتے ہیں کہ الله تعالیٰ کے احکامات کی پیروی کرکے آفات سے بچا جا سکتا ہے ۔ نیکی مثلاً صلہ رحمی اور ایمانداری نہ صرف آخرت میں باعثِ نجات ہو گی بلکہ فرمانِ رسولﷺ ھے کہ یہ رزق اور عمرمیں بھی اضافے کا باعث ہے ۔
انسان کو اللہ تعالیٰ نے اپنے ذکر اور قدرت کے اس کارخانے پر فکر کے لیے پیدا کیا ہے۔ تاکہ اللہ تعالیٰ کی بڑائی اور صنّاعی کے دل سے قائل ہوکر، شُکر کی صورت میں اعتراف کریں۔ اللہ ﷻ کی بڑائی کا دل و زبان سے قائل ہوجائے۔ لیکن اس کے برعکس انسان اکثر مقصدِ حیات کو نظرانداز کرتا یا بھول جاتا ہے اور یہی اکثرسننے میں آتا ہے کہ زندگی ایک بار ملی ہے لہذا اپنی مرضی سے جیو۔ بے شک ! لیکن اللہﷻ کی رضا کو پیشِ نظر رکھ کر فلاحِ دارین کے ساتھ زندگی گذارنا دانشمندی ہے۔
قرآن شریف میں اللہ ﷻ نے انسانوں کی ہدایت کے لیے گذرے اقوام کے واقعات کو یاد دہانی کےطور پربیان کیے ۔
حضرت نوح علیہ سلام ، حضرت لوط علیہ سلام اور حضرت صالح علیہ سلام کی قو موں پر دردناک عذاب نازل کیے گئے۔ یہ لوگ انتہائی نافرمان تھے۔اُن کی نافرمانی ، شرک اور بے حیائی کی وجہ سے اُنہیں رہتی دنیا کے لیے نشانِ عبرت بنا یا گیا۔
حضرت یونس علیہ سلام کے قوم کا ذکر پڑھ کر اندازہ ہو جاتا ہے کہ اللہ رب العزت کو سچائی سے گناہوں سے توبہ کرنا کتنا پسند ہے؟ اُُس قوم کی خوش قسمتی تھی کہ اللہ نے انہیں مہلت دی ۔وہ قہر کے نزول کے آثار دیکھتے ہی تہ دل سے توبہ کرکے تمام اسائشوں سے کنارہ کش ہو ئے اور اللہ ﷻ اور پیغمبر کے فرمانبردار بن گئے۔
۔
لیکن آج بلا خوف و خطر تمام مقہور قوموں کی نا پسندیدہ عادتیں مسلمانوں میں عام ہیں۔ کون سی بری عادت ہے جس سےمسلم معاشرہ یکسر خالی ہے۔۔۔ کیاموت کاکوئی وقت مقررہے؟ کیاسب شہرِخموشاں کی ویرانی اور اس کے باسیوں کی بےبسی، وہاں سے روز گذرتے ہوئے محسوس نہیں کرتے۔۔۔وہاں حشر تک اپنےاعمال کے ساتھ، داورِ محشر کے روبرو ہونے تک ، سب نےانتظار کی ہولناکی سے گذرنا ہیں۔
ہمیں اصحابِ سبط سے عبرت لینا ہے۔ یہ بنی اسرائیل کا ایک فرقہ تھا ، جنہیں ہفتے کے دن ( جو کہ اُنکا مقدس دن تھا) اللہ ﷻ نے مچھلیاں پکڑنے سے منع فرمایا۔ وہ یومِ سبت کو مچھلیوں کو پکڑنے کی بجائےدام پھیلاتے اوردوسرےدن پھنسی ہوئی مچھلیوں کو گھر لے جاتے۔اُس دن عام دنوں سے زیادہ مچھلیاں نکلتیں ۔ وہ اُس ناسمجھ قوم کی آزمائش تھی۔ لیکن وہ وہ اللہ ﷻ کے برداشت کو آزماتے رہے۔ کئی سالوں تک نافرمانی کا یہ سلسلہ جاری رہا۔آخر کار غضبِ الہی نے انہیں آپکڑا اور اُن کی شکلیں رب تعالیٰ نے بگاڑ ڈالی۔وہ اپنے ہی بستی میں اجنبی بن گئے۔
کیا آج وہی رب تعالٰی کی حکومت واقتدار نہیں یا اب وہ "غالب و حاضر" نہیں؟
حضرت شعیب علیہ سلام کی قوم کے بارے میں سب جانتے ہیں، جن کو ناپ تول میں ہیرا پھیری کی وجہ سے سخت سزا ملی۔وہ عذابِ ربانی کے مستحق ٹہرے۔
لیکن جتنا علم عام ہورہا ہے، اتنا عمل کم ہورہا ہے۔ بعض علماء اور دانشور بھی بنی اسرائیل کے علماء کی طرح، دین کی تشریح من پسند انداز میں کر رہے ہیں۔انہوں نے بھی تھوڑے فائدے کے لیےنہ صرف اپنا لیکن قوم کا بھی بیڑا غرق کیا تھا۔یہ وقت کی پکار ہے کہ ربِ کائنات کے صبر وبرداشت کو مزید نہ پرکھا جائے۔ اس کی پکڑ سے پہلے پہلے اس کی منشاء ومرضی کو مقدم سمجھا جائے۔
وہ رب ذوالجلال سب سے بڑا منصف اور ہے ۔ کیا کوئی ایک معمولی افسر یا وزیر کو خفہ کر نے کا سوچ سکتاہیے ؟
اگر نہیں ،تو پھر سب ربِ زوالجلال کے اوامر ونواہی سے کیوں منہ موڑ رہے ہیں ؟
کیا یہ چند روزہ زندگی نہ ختم ہونے والی،کھربوں سالوں پر محیط زندگی سے زیادہ قیمتی ہے۔
بحیثیت مسلمان اور آخری اُمت
کے، ہمارا کام بُرائی کو روکنا ہے،اسے پھیلانا اور عام کرنا نہیں ہںے۔
چونکہ میڈیا کا دور ہے لہٰذا سب اہلِ دانش وقلم کے فرائض میں اضافہ ہںوا ہے ۔برائی اور بے حیائی کے خلاف سب نے آگے بڑھ کر اپنا فریضہ بہ احسن ادا کرناہے۔ کہیں ایسا نہ ہںو کہ سستی اور لاپرواہی کرتے کرتے توبے کا دروازہ بند نہ ہو جائے۔
بقولِ شاعر
.
افسوس! ہم تومست رہےمحوخوابِ شب
اور آفتابِ عمر لبِ بام آ گیا
* * * * *
ترغیب
دن بھر کی مصروفیات کےبعد رات کس پہرکو آنکھ کھلی ۔پتہ نہیں کب سے بجلی چلی گئی تھی اور گھپ اندھیرا تھا۔ کچھ بھی دکھائی نہں دے رہا تھا۔ موبائیل فون بھی کہیں رہ گیا تھا۔ آنکھیں دیکھنے سے قاصر تھیں ۔ نظارہ کرنےوالی اور جایزہ لینے والی آنکھیں چارو ناچار بند کرنا پڑیں اور دن بھر کی مصروفیات کے بارے میں سوچنے لگی۔ اللہ ﷻ کے نعمتوں کو اہمیت نہ دینے پر خود کو برا بھلا کہنے لگی۔
اجانک دل ودماغ کے سارے دریچے وا ہو ئے۔ گذرا دورآہستہ آہستہ بالترتیب ، کچھ ساکن تصویری اور کچھ متحرک فلم کی شکل میں پردے پر ہویداہونےلگا۔
صبحِِ زندگی سے کہانی شروع ہوئی۔ " بچپن " ، "جوانی " کامیابی وناکامی خوشی وغم سب مناظر پردہ سکرین پر تیزی کے ساتھ گذرتے گئے۔اور پھر آ ہستہ آہستہ شام کے سایوں کا پھیلنا۔ وقت پر لگا کےاُڑتا رہااور ہم صبح و
شام کے چکرمیں پڑے رہے۔ ہمسایوں سے بے خبر اور بعض اوقات اپنوں کی خبر گیری سے بھی معذور۔۔۔
کچھ بہت ہی عزیزاور پیارے جن کے بغیر ھم سوچ نہیں سکتے تھے، وہ بچھڑگئے۔اُن کو یاد کرکے آنکھیں بھر آئیں۔ ماضی کے دریچے کھلتے گئے۔ خوشی و غم کی کہانی ساتھ ساتھ چلتی رہی اورپھر وقت نےمنادی سنادی۔کہ یہاں کے راستےتو کہیں اور جا کرختم ہوتے ہیں۔ وہاں سے طویل عرصے کا سفر شروع ہوتا ہے لہذا تیاری بر وقت مکمل کرنا ازحد ضروری ہے۔
تیاری بہترین انداز میں شروع کرنے کو ٹالتی رہی۔ اپنے ماضی کےمناظر سکرینِ زندگی پرایک ایک کرکے مشینی انداز میں متحرک صورت میں دیکھتی رہی اور کوتاہیوں اور وقت کی ضیاع پر دل ہی دل میں پچھتاوے اور پشیمانی کا پیکر بن کے سوچتی رہی کہ کل سے ہر کام بروقت کرونگی ۔
یکایک کسی ڈرامے کی آخری قسط کی آخری منظر کی طرح تصویر ساکن ہوگئی اور ساتھ ہی سکرین تاریکی میں ڈوبتا چلا گیا۔ لیکن کسی نئے پروگرام شروع ہونے کے آثار دکھائی نہیں دے رہے تھے۔ مجھے ایسا لگا جیسے میری آنکھیں پتھرا گئی ہو یا بےنوروبے جان ہو گئیں ہو۔
ذہںن اور دماغ پر تاریکی سے زیادہ گھٹن اثر انداز ہوا ۔ دل ڈوبتا رہا جیسے سینے پر کسی نے لوہے کے بھاری سیل رکھے ہو۔ بےچینی اور بے بسی سے ہچھکیاں بند گئ۔چلا چلا کر اپنوں کو پکارتی رہی ۔ لیکن ایسا لگ رہا تھا میری آواز کوئی سن ہی نہیں رہا تھا۔ گھٹن بڑھ رہی تھی۔لیکن یہ کیا ہو رہا ہے میرے زندہ اقارب کی بجائے میرے بچھڑے عزیزو اقارب مجھے حوصلہ دینے اور تھامنے کے لئے آگے آرہے ہیں ۔ مجھےدلاسہ دے رہے ہیں اور میں خوف زده وہراساں انہیں تکنے لگی ہوں۔ ایک طویل ، مشکل اور بوجھل وقت کو بے چینی اور کرب کے ساتھ جھیلتی رہی۔
* * * * * *
منظر تبدیل ہوا اورایک نئی دنیا میں، میں نے خود کو پایا۔ ایک غیرمرئی قوت مجھے اوپر کی طرف دکھیلنے پر مجبور کر رہی تھی۔ ایک نادیدہ قوت مجھے بغیر پر کے کسی راکٹ سے بھی تیزرفتاری سے اوپراُڑان میں مدد کررہی تھی ۔ سامنے ایک عجیب منظر تھا ۔ بادل پیچھے چھوڑ کر فضا ئے بسیط کا حیران کن نظارہ ۔۔۔ میں آکسیجن کو ایک بڑی قوت وفرحت بخش عنصر کی طورپر ،جذب کرتے، آگے آگے بڑھتی جا رہی تھی۔ جو درد اور گھٹن جھیل چکی تھی اب بھی یاد کرکے دل لرزنے لگتاتھا۔ اوپربہت اوپر چمکتے ہیروں اور جواہرات سے جلملاتا سائباں نظرآرہا تھا جسکی وسعت کا احاطہ کرنا میری بصارت کی بس کی بات نہیں تھی۔البتہ میں وہاں سے کوسوں دور تھی۔ فضا ئے بسیط کی وسعت کو متحیر و حیرانگی سے دیکھ رہی تھی ۔اوپر اُ ڑنے کا مزه کچھ اورتھا۔ شٹل کاک کی طرح ہلکا اور بے وقعت وجود اور اللہ تعالیٰ کی اتنی بڑی مہربانی۔
یکایک ایک بازنما پرندے کی شکل کا وجود جسکا چہرہ انسانوں کی طرح تھا ،ہویدا ہوا اورمجھ سے ایک ایسی نا معلوم ذبان میں مخاطب ہوا لیکن میں اُس کا مفہوم سمجھ رہی تھی۔ آوازگرج داراورخوفناک تھی ۔ اس نے مجھے فورٌا نیچے پلٹنے کا حکم دیا۔ غیظ ، وغضب سے بل کھاتا ہوا، اس نے کہا، " واپس نیچے جاؤ" تمہارا مقام توتحت الثرا ہے ۔ اوپر جانے والے باعمل و نیکوکارلوگ ہوتے ہیں ۔تمہارے پلے تو رائی برابر نیکی نہیں ۔ اگر کچھ نیکیاں تھیں بھی تو وہ برائیوں نے کھا ڈالی ہیں۔
یہ سنتے ہی میرا سارا وجود روح تک کانپ اُٹھا۔ یہ کیا؟ میرے سارے اعمال ایک نظرمیں مجھے دکھا ئے گئے۔ کوئی قابلِ ذکرکام ان میں نہیں تھا۔ ثواب کی غرض سے کۓگۓکام بھی کھوٹ سےخالی نہیں تھے۔ خسارا ہی خسارا۔۔۔
نیچے دیکھنے سے مجھے ہول آرہا تھا کیونکہ میری تودوسری منزل سے نیچےجھانکنے سے جان نکلتی تھی۔
بےبسی اورلاچارگی کے علاوہ اب میرے پاس کچھ نہیں تھا۔ عمل اور اسباب کا دَور گزرچکا تھا۔ خالی ہاتھ صرف مَلے جاسکتےتھے، لیکن پچھتاوے یا منت وزاری کا بھی کوئی فائدہ نہیں تھا ۔ پرندہ نما دیو قامت جسہ حقارت سے پھر گویا ہوا کہ شاہِ شاہاں ، بادشاہِ کُن کا حکم ہے کہ اسے آگے نہ آنے دیا جائے۔ لہذا اگرمیں پیچھے نہ پلٹی تووہ مجھے دکھا دےکرتحت الثرا پرپہنچاۓ گا اور ساتھ ہی تحت الثرا کا ہولناک نقشہ میرے آنکھوں کے سامنے لہرایا گیا۔
ہائے قسمت! میں بےچارگی کے عالم میں کھڑی اوپرافلاک کی بزرگی،چمک دمک اور وقار کو آخری بار جی بھر کے دیکھنے کی کوشش کر رہی تھی۔ کاش! میں بھی اس خوبصورت اور تابندہ جہاں کو دیکھنے کی قابل ہو تی۔ خوبصورتی آنکھوں کوخیرہ کر رہی تھی کہ ذہن میں تحت الثرا کی ہولناکی کا منظر پھر ہویدا ہوا اور میرا رُوآں رُوآں کانپ اُٹھا۔ لیکن تقدیراور کاتب تقدیر دونوں کے آگے میں بےبسی اور لاچارگی کی بےزُباں تصویر بن کے خود کو کوس رہی تھی کہ کیوں دنیائے اسباب وعلل میں ، میں نے دوراندیشی کی بجائے نا عاقبت اندیشی سے کام لیا تھا۔
۔ فییصلہ صادر ہو چکا تھا،اب کارروائی کی منتظر تھی ۔ مجھے معلوم تھا کہ رب ذوالجلال کے علاوہ یہاں کسی کا بھی نہیں چل سکتا اور یہ اُسی رب العٰلمین کا حکم تھا۔ اس حکم کو ٹالنا ناممکن تھا کیونکہ میں دنیا میں اس عظیم الشان ہستی کو اُسکی شان کے مطابق نہیں پکارا تھا۔ میری بے بسی انتہا کو چھو رہی تھی۔
یکایک روشنی کا ایک ہالہ تیزی سے لپکا اور میرے گرد منڈلانے لگا۔ میں آنکھ جپھکائے اسے دیکھ رہی تھی۔ تھوڑی دیربعد روشنی کے ہالے نے انسانی ہیئٔت اختیار کی۔خوبصرت نورانی بزرگ، باز نما پُر ہئبت وجود کے قریب گیا۔۔۔ میری یاس و نا اُمیدی کی کیفیت ایک لمحے کے لیے حیرت میں تبدیل ہو گئی۔ بزرگ کی با رُعب مگر شیریں آواز بلند ہو ئی ۔
اسے ( میرےطرف اشارہ تھا ) اوپرجانے دےدیے۔ صاحبِ افلاک نے رحم کرکےاس گنہگار کے معا فی کا حکم جاری کردیا ہے۔ میں نے اس کی سفارش کر دی۔
میری جان میں جان آئی ۔ اور خوشی ناقابلِ دید تھی۔ حیرت کی بھی انتہا تھی کہ یہاں پر میرا یہ محسن کون ہے ؟ میں نےجرأ ت کرکے عاجزی اور ندامت سے پوچھا کہ اے مہربان انسان تو کون ہےجو ربِّ عظیم الشان سے سفارش کرنے کی جسارت کر سکتے ہو؟
بزرگ کے منہ سے شیریں و پُر تاثیر آواز اُبھری۔
اے بنتِ آدم ! میں وہی سورہ کہف ہوں جسےہر جمعے کو تُو پڑھا کرتی تھی اور دوسرے لوگوں کو بھی ہمیشہ پڑھنے کی ترغیب دیتی تھی۔
یہ کہتے ہی نورانی بزرگ غائب ہوا اور میرا وجود ہلکا ہو کے ، خوشی خوشی پھرسے بلندی کی طرف پرواز کرنے لگا۔ ساتھ ہی سورہ کہف کے پہلے دس آیات جومجھے زبانی یاد تھے ،کو قاری مشاری راشد بن عفاسی کی طرزمیں تلاوت کرتی رہی۔
اچانک گھروالے کی گرجدار آواز کان میں پڑی ، "جمعے کا دن ہے اور نماز کی دیر ہورہی ہے ۔نماز کے بعد تلاوت کرنا"۔
*****
مرزا سد اللہ خان غالب
اُردوزبان کا درخشاں ستارا
یارب زمانہ مجھ کو مٹاتا ہے کس لیے
لوحٍ جہاں پہ حرفٍ مکرر نہیں ہوں میں
مرزا اسد ا للہ خان بیگ المعروف بہ مرزا غالب ، اردو کے بہترین شعراء میں سے ایک ہیں۔وہ 27
دسمبر1797کو آگرہ میں پیدا ہوئے اور دبستان دلی کے نمائندہ شاعر مانے جاتے ہیں ۔ انہوں نے اردو اور فارسی دونوں زبانوں میں شاعری کے جوہر دکھانے ۔ شاعری کے ساتھ ساتھ غالب کے خطوط نے انہیں اردو نثر میں بھی ایک منفرد مقام سے نوازا۔ "عودِ ہندی " انکے نثری مجموعے کا نام ہے۔لیکن غالب کو بقائے دوام اُنکے اُردو شاعری کے مجموعے "دیوانِِ غالب" نے دیا۔
انہوں نے ہندوستان کی سلطنت کو اجڑتے دیکھا۔مسلمانوں پر دنیا تنگ ہوتی اور دنیا کے اپنے دور کے خوشحال ترین شہر دہلی کو اجڑتے اور لرزتے دیکھا ۔
نقشِ فریادی ہے کس کی شوخئِ تحریر کا
کاغذی ہے پیرہن ہر پیکرِ تصویر کا
یہ غالب کے کلام کا پہلا شعرہے۔ اس شعر کی خوبصورتی صرف زبان و بیان میں نہیں بلکہ اس میں ایک تاریخی حقیقت کوانسان کے ورود و عدم کے فلسفے سے جوڑا گیا ہے ۔ اور یہی خوبی انکے اکثر اشعار میں پائی جاتی ہے۔فیض احمد فیض صاحب نے اپنے شاعری کے پہلے مجموعے کا نام بھی " نقشِ فریادی " رکھا۔ شائد غالب سے محبت اور اس بہترین شعر کی خوبیوں کی وجہ سے۔
ریختے کے تمہیں استاد نہیں ہو غالب
کہتےہیں اگلے زمانے میں کوئی میر بھی تھا
ایک بڑےشاعرشاعراورباظرف وذوق انسان تھے
لہذا میرتقی میر کےعظمت کودل کھول کربیان
کیا۔
مرزا غالب مشکل اورپیچیدہ شاعری کی وجہ سے اردو ادب میں ایک خاص مقام رکھتے ہیں۔ بقولِ محمد حسین آذاد ،غالب کی شاعری کو سمجھنے والے اور نہ سمجھنے والے دونوں واہ واہ کرتے ہیں۔
اُن کے اشعار اکثر مواقع پر بطورِ ضرب الامثال بھی پیش کیے جاتے ہیں۔
بازیچۀِ اطفال ہے دنیا میرے آگے
ہوتا ہے شب و روزتماشا میرے آگے
اس شعر کا دوسرا مصرعہ اکثرمواقع پربطورِ ضرب المثل، خاص وعام کی زباں سے بے ساختہ نکلتا ہے۔
ایک عام قاری مندرجہ ذیل اشعار سن کریا پڑھ کر واہ واہ کہنے پر مجبور ہوتاہے ۔
جہاں تیرا نقشِ قدم دیکھتے ہیں
خیاباں خیاباں اِ رم دیکھتے ہیں
بنا کر فقیروں کا ہم بھیس غالب
تماشائے اہل کرم دیکھتےہیں
دل ناداں تجھے ہوا کیاہے
ُآخراس درد کی دوا کیا ہے
پھر تیرے کوچے کو جاتا ہے خیال
دلِ گم گشتہ مگر یاد آ یا
موت کا ایک دن معین ہے
نیندکیوں رات بھرنہیں آتی
کچھ بھی ہو، غالب نے ایک مختصر کلام میں حیات وممات کا وہ فلسفه بیان کیا جس سے قاری متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ کبھی یاسیت و ناامیدی کی انتہا کرتےہیں۔
نہ تھا کچھ تو خدا تھا ، کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا
ڈبویا مجھ کو ہونے نے، نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا
ہوا جب غم سے یوں بے دم ، تو پھر سرکٹنےکا کیا غم
نہ ہو تا گر جدا تن سے تو زانو پر دھرا ہوتا
غالب ہمیں نہ چھیڑکہ پھرجوشِ اشک سے
بیٹھے ہیں ہم تہیۀِ طوفاں کیے ہوئے ۔ ۔ ۔
،ایک مشہور نقاد ادب کی تعریف کچھ یوں کرتے ہیں بہترین ادب ذندگی کا ترجمان ہوتا ہے "ے "
اور اس میں کوئی شک نہیں کہ غالب کی شاعری حقیقی ذندگی کی ترجمانی بہ احسن طریقے سے کرتی ہے۔
ابنِ مریم ہوا کرے کوئی
میرےدل کی دوا کرےکوئی
ہے خبر گرم اُن کے آنے کی
آج ہی گھر میں بوریا نہ ہوا
پھرمجھے دیدۀِ تریاد آیا
دل جگر تشنۀ فریادآیا
کوئی ویرانی سی ویرانی ہے
دشت کو دیکھ کے گھر یادآیا
مرزا غالب کے "یا " کا ردیف بہت مشہور ہے۔ غالب سے پہلے ان کے نام کا حصہ "اسد" ان کا تخلص تها یا
میں نے مجنوں پہ لڑکپن میں اسد
سنگ اُٹھایا تھا کہ سر یاد آیا
کس خوبصورت انداز میں پندو نصیحت کی ہے ۔یہ صرف غالب ہی کا کمال ہے۔
ایک اور جگہ بڑے تیکھے انداز میں ناصح کی قلعی کھولتے ہیں:-
کہاں میخانے کا دروازہ غالب اور کہاں ناصح
پر اتنا جانتے ہیں ، کل وہ جاتا تھا کہ ہم نکلے
جب انہیں معلوم ہوا کہ اسد ایک دوسرے شاعر کا قلمی نام یعنی تخلص ہےتو اسے ترک کرکے غالب کو بطورِ تخلص اپنایا۔
ہیں اوربھی دنیا میں سخنور بہت اچھے
کہتے ہیں کہ غالب کاہے اندازِ بیاں اور
بچوں اور بڑوں میں عام انسانی احساسات کو نۓ انداز میں بیان کرنے کی وجہ سے ہر دلعزیز ہیں ۔ہر کوئی کہتا ہے کہ یہ میرے دل کی بات ہے۔
دیکھنا تقریر کی لذت کہ جو اس نےکہا
میں نے یہ سمجھا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے
غالب کو اردو کلام کے بارے میں یہ اُمید نہیں تھی اورشائد انہوں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ ریختہ گوئی، اُنہیں بقائے دوام دےگا۔
انہیں اپنے فارسی کلام پر بہت فخر تھا ، لیکن فارسی میں پہلے سے سعدی، رومی ، جامی اور کئی اہلِ کی شاعری موجود تھی، جس کے سامنے غالب کی شاعری وہ رنگ نہ جماسکی۔
البتہ اُن کی ا۔ردو شاعری نے ندرت بیانی، اور فلسفیانہ رنگ کی وجہ سے شہرت و کمال کا ایک نیا باب رقم کیا اردو کلام کی وجہ سے غالب کو امر کردیا۔
عشق نے غالب نکما کردیا
ورنہ ہم بھی کام کے تھے آدمی
ا۔ن کی فارسی شاعری بھی معنی و بیان میں کم نہیں لیکن اللہ تعالیٰ کو یہی منظور تھا کہ اردو سےاُنہیں اُفقِ عالم میں دوام ملے۔
یارب زمانہ مجھ کو مٹاتا ہے کس لیے
لوحٍ جہاں پہ حرفٍ مکرر نہیں ہوں میں
مرزا اسد ا للہ بیگ المعروف بہ مرزا غالب ، اردو کے بہترین شعراء میں سے ایک ہیں۔وہ۲۷
دسمبر۱۷۹۷کو آگرہ میں پیدا ہوئے اور دبستان دلی سے وابستہ رہے ۔ انہوں نے اردو اور فارسی دونوں زبانوں میں شاعری کے جوہر دکھانے ۔ شاعری کے ساتھ ساتھ غالب کے خطوط نے انہیں اردو نثر میں بھی ایک منفرد مقام سے نوازا۔ "عودِ ہندی " انکے نثری مجموعے کا نام ہے۔لیکن غالب کو بقائے دوام اُنکے اُردو شاعری کے مجموعے "دیوانِِ غالب" نے دیا۔
نقشِ فریادی ہے کس کی شوخئِ تحریر کا
کاغذی ہے پیرہن ہر پیکرِ تصویر کا
غالب کے کلام کا پہلا شعر ہے۔ اس شعر کی خوبصورتی صرف زبان و بیان میں نہیں بلکہ اس میں ایک تاریخی حقیقت کوانسان کے ورود و عدم کے فلسفےکے نکتے کو بہترین انداز میں بیان کیاگیا ہے ۔ اور یہی خوبی انکے اکثر اشعار میں پائی جاتی ہے۔فیض احمد فیض صاحب نے اپنے شاعری کے پہلے مجموعے کا نام بھی " نقشِ فریادی " رکھا۔ شائد غالب سے محبت اور اس بہترین شعر کی خوبیوں کی وجہ سےانہوں نے یہ نام چنا۔
مرزا غالب اپنے فلسفیانہ اور مشکل شاعری کی وجہ سے اردو ادب میں ایک خاص مقام رکھتے ہیں۔ بقولِ محمد حسین آذاد ،غالب کی شاعری سمجھنے والے اور نہ سمجھنے والے دونوں واہ واہ کرتے ہیں۔
بازیچۀِ اطفال ہے دنیا میرے آگے
ہوتا ہے شب و روزتماشا میرے آگے
اس شعر کا دوسرا مصرعہ اکثرمواقع پربطورِ ضرب المثل، خاص وعام کی زباں سے بے ساختہ نکلتا ہے۔
ایک عام قاری مندرجہ ذیل اشعار سن کریا پڑھ کر واہ واہ کہنے پر مجبور ہوتاہے:-
جہاں تیرا نقشِ قدم دیکھتے ہیں
خیاباں خیاباں اِ رم دیکھتے ہیں
دل ناداں تجھے ہوا کیاہے
ُآخراس درد کی دوا کیا ہے
پھرتیرےکوچےکو جاتا ہےخیال
دلِ گم گشتہ مگر یاد آ یا
موت کا ایک دن معین ہے
نیندکیوں رات بھرنہیں آتی
کچھ بھی ہو، غالب نے ایک مختصر کلام میں حیات وممات کا وہ فلسفه بیان کیا جس سے قاری متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ کبھی یاسیت و ناامیدی کی انتہا کرتےہیں۔
نہ تھا کچھ تو خدا تھا ، کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا
ڈبویا مجھ کو ہونے نے، نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا
ہوا جب غم سے یوں بے دم ، تو پھر سرکٹنےکا کیا غم
نہ ہو تا گر جدا تن سے تو زانو پر دھرا ہوتا
غالب ہمیں نہ چھیڑکہ پھرجوشِ اشک سے
بیٹھے ہیں ہم تہیۀِ طوفاں کیے ہوئے ۔ ۔ ۔
ایک مشہور نقاد ادب کی تعریف کچھ یوں کرتے ہیں ،" بہترین ادب ذندگی کا ترجمان ہوتا ہے "
اور اس میں کوئی شک نہیں کہ غالب کی شاعری حقیقی ذندگی کی ترجمانی بہ احسن طریقے سے کرتی ہے۔
ابنِ مریم ہوا کرے کوئی
میرےدل کی دوا کرےکوئی
ہے خبر گرم اُن کے آنے کی
آج ہی گھر میں بوریا نہ ہوا
پھرمجھے دیدۀِ تریاد آیا
دل جگر تشنۀ فریادآیا
کوئی ویرانی سی ویرانی ہے
دشت کو دیکھ کے گھر یادآیا
مرزا غالب کے "یا " کا ردیف بہت مشہور ہے۔ غالب سے پہلے ان کے نام کا حصہ "اسد" ان کا تخلص ہوا کرتا تها
میں نے مجنوں پہ لڑکپن میں اسد
سنگ اُٹھایا تھا کہ سر یاد آیا
کس خوبصورت انداز میں پندو نصیحت کی ہے مطلب یہ ہے کہ مجنو ں یعنی عاشق یا دیوانے کی حرکتو ں پر تمام لوگ اکثرانگلیاں اُٹھاتے رہتے ہیں لیکن بچے حدسے بڑھ جاتے ہیں اور پتھر مار کر دیوانے کو تنگ کرنا انکا مشغل۔یہ صرف غالب ہی کا کمال ہے۔
ایک اور جگہ بڑے تیکھے انداز میں ناصح کی قلعی کھولتے ہیں:-
کہاں میخانے کا دروازہ غالب اور کہاں ناصح
پر اتنا جانتے ہیں ، کل وہ جاتا تھا کہ ہم نکلے
جب انہیں معلوم ہوا کہ اسد ایک دوسرے شاعر کا قلمی نام یعنی تخلص ہےتو اسے ترک کرکے غالب کو بطورِ تخلص اپنایا۔
ہیں اوربھی دنیا میں سخنور بہت اچھے
کہتے ہیں کہ غالب کاہے اندازِ بیاں اور
بچوں اور بڑوں میں عام انسانی احساسات کو نۓ انداز میں بیان کرنے کی وجہ سے ہر دلعزیز ہیں ۔ہر کوئی کہتا ہے کہ یہ میرے دل کی بات ہے۔
دیکھنا تقریر کی لذت کہ جو اس نےک
میں نے یہ سمجھا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے
انہیں اپنے فارسی کلام پر بہت فخر تھا ، لیکن شہرت ان کو ان کے اردو کلام کی وجہ سے حاصل ہوئی۔
کوکبم را در عدم اوجِ قبولی بودہ است
شہرتِ شعرم بہ گیتی بعدِ من خواہد شدن
ترجمہ:
میری قسمت کے ستارے کو مقبولیت کی بلندیاں عدم میں حاصل ہوئی ہیں یعنی مرنے کے بعد۔ لہٰذا اس دنیا میں میرے کلام کی شہرت بھی میرے بعد ہی ہوگی اُنکی مندرجہ بالاپیش گوئی حرف بہ حرف صحیح ثابت ہوئی اور اردو شاعری کی وجہ سے ان کو حیاتِ جاوداں ملی۔ اُردو جاننے والوں کے لیے غالب ھمیشہ غالب رہاہےاور رہےگا۔
اردو ادب کا یہ درخشاں ستارہ ١۵ فروری کو ڈوب گیالیکن اسکی کرنیں دور دور تک پھیل گئی۔
****_________****
. گوہرِ نایاب
ڈھونڈا کریں گے ہم تمہیں فصل بہارمیں
اللہ تبارک تعا لٰی نے اس کارخانۀِ قدرت کو رنگا رنگ مظاہرواشیاء سے سجایا ہے۔ ذندہ مخلوقات کے ساتھ ساتھ بے جان مظاہرِ قدرت کو دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے۔
ساری چیزوں کی حقیقت واہمیت اپنی جگہ مسلّم ہے لیکن انسان ہی وہ نایاب چیز ہے جسکے لیے دنیا بنائی گئی ہے۔ان . میں بعض لوگ ہر دور میں ستاروں کی طرح روشن اور دوسروں کے لیے مشعلِ راہ ہوتے ہیں ۔
انہیں درخشاں ستاروں میں سے ایک ، قطبی ستارہ، پاکستان کے مایہ ناز ، شفیق ودردمند استاد ، عظیم سائنسداں ، ڈاکٹر حبیب احمد ( تمغۀِ امتیاز ) ہیں۔
یہ تابناک ستارہ سوات کے ایک خوبصورت اور وسیع و عریض وادی، مٹہ میں مولوی محمد سعید کے گھر ، جولائی ۱۹۵۹ میں چمکا اور اسکی روشنی آفاق میں دور دور تک پھیل گئی ۔
ڈاکٹر حبیب احمدکے بارے میں شایدمیرے الفاظ بلکل ناکافی اور زُبان بھی خام ہو ۔لیکن ایک کوشش ہے کہ اس "فیلسوفِ سوات " کے بارے میں کچھ لکھا جائے۔کیونکہ
دور بیٹھے سب کو نظر آتے ہیں لیکن چراغ تلے اکثر اندھیرا ہوتا ہے۔
ڈاکٹر صاحب کے بارے میں لکھنے سے قبل اُنکے والدِ محترم کا مختصر تعارف ضروری ہے۔مولوی صاحب المعروف به سیرئ استاد، مٹہ کے چنداولین اساتذہ میں سے ایک تھے۔ وہ عالمِ دین بھی تھے۔ گورنمنٹ پرائمری سکول مٹہ میں بچوں کی سیاہی بنانے اور قلم بنانے کے کام ،کومولوی صاحب درس و تدریس کی طرح مقدس فریضہ سمجھ کر سر انجام دیتے رہے۔ اکثر غریب طالب علموں کی مالی مدد کرتے۔کلاس کےسب بچوں کو علم کے چراغ سے روشنی دینا بِِلا امتیازِ ذہانت ، ذہن نشین کروانا وہ فرضِ عین سمجھتے تھے۔
وہ معلم کے ساتھ ساتھ علاقے کےپسماندہ لوگوں کے حقوق کے لئے جدوجہد کرنے والے پہلے رہنما تھے۔ اُنہوں نے اپر سوات کے غریب اور پسماندہ طبقوں کو اپنے پاوں پر کھڑے ہونے کا انداز سکھایا۔شاید ڈاکٹر حبیب احمد اُن کی دوسروں کے بچوں سے بےلوث محبت اور علم کی ہر خاص وعام تک پہنچانے کی بہترین کاوش اور ایمانداری کا ثمر تھے۔
. پروفیسرڈاکٹر حبیب احمد
کے کامیابی کا سفر
ڈاکٹر حبیب احمد نے میٹرک تک تعلیم گورنمنٹ ہائی سکول مٹہ سے حاصل کی۔ ایف۔ ایس۔ سی گرنمنٹ ڈگری کالج مٹہ سےمیں اور بی۔ ایس ۔ سی جہان زیب کالج سیدو شریف سے پاس کی۔ ایم۔ ایس ۔ سی۔ اور ۱۹۹۱ میں ایم ۔ فل پشاور یونیورسٹی سے کیا اور پھر سال ۲۰۰۳ میں پنجاب یونیورسٹی سے "Cytogenetics " میں" PHD کرنے کے بعد اُن کی کامیابی کا ایسا سفر شروع ہوا ، جو بہت کم لوگوں کو نصیب ہوتا ہے۔
جینٹکس میں پی۔ایچ۔ڈی۔ کرکے میں اس نا غیر مقبول مضمون کو صوبہ پختونخوا کے طول وعرض میں روشناس کروانے کے ساتھ ساتھ اس میں تحقیق کا بیڑا اس طرح اُٹھایا کہ نہ صرف گردونواح میں" باباۓ جینٹکس" "کےنام سے مشہور ہوئے بلکہ اللہﷻکے فضل و کرم سے قومی سطح سے لیکر اُن کی شہرت بین الاقوامی سطح تک پہنچ گئ۔ ۲۸ پی ایچ ڈی اور ۱۲۸ ایم۔ فل سکالروں نے اُن کی نگرانی میں کام کیا اور کامیابی سے ہمکنار ہوئے۔ اُن کےکے ۲۹۴ ریسرچ آرٹیکل جرنلزمیں شایع ہوئے۔ مونو گرافس اور۳۴ کتابیں لکھیں۔
حکومت پاکستان نےسال ۲۰۱۱میں تحقیق کے میدان میں بیش بہا خدمات کے بدولت انہیں ملک کے سب سےبڑے سویلین اعزاز " تمغۀِ امتیاز" سے نوازا۔ امریکہ کے" Genetics Society " نے انہیں دنیا میں جینٹکس کے بہترین سائنسداں کا اعزاز دیا۔ دنیاکے 2 فیصد بہترین سائنسدانوں میں اُنکا نام شامل رہا۔
سال۲۰۱۳ میں "حسنین" نامی سرسوں کےا علیٰ قسم کے بیج کو متعارف کروایا۔ جسے خیبر پختون خوا حکومت نے اس کی افادیت کی بنیاد پر ،اسکی فروغ کی منظوری دے دی۔
مختلف مواقع پر وفاقی،صوبائی حکومت اوریونیسکونے اُن کو سال کےبہترین اُستاد کے اعزاز سے نوازا۔ غرض اُن کی پبلکیشنز کے بارے میں پڑھ کر حیرت ہوتی ہے کہ اتنی
مصروفیات کے باوجود اُنہوں نے تحقیق وتصنیف کے اتنے بڑے کام کو کس طرح پایۀِ تکمیل تک پہنچایا اور اتنے بڑے خزانے کو کس وقت مرتب کیا؟
پودوں پر تحقیق کرنےکے لیے انہوں نے زندگی وقف کی تھی۔آ خر دم تک انسانیت کی فلاح کے لیے تحقیق کرتے رہے ۔ انسانی صحت کے لیے مختلف پودوں کےمحاسن ڈھونڈنے کے لیے تجربات وتحقیق کا ایک گراں بہا خزانہ ، مختلف اور مستند ومعروف جرنلزمیں شایع کیا۔ پودوں کی تلاش میں اکثروبیشتر دور درازاور سنگلاخ پہاڑوں کے سفر پر جاتے اورپھر ان پر تحقیق کرتے۔انسانی جین پر بھی اُنکی تحقیقی نتائج قابلِ قدر اور مستند مانے جاتےہیں۔
۔
. پیشہ ورانہ زندگی
. ڈاکٹر حبیب احمد سب سے پہلےاسلا م آباد میں پاکستان ایگریکلچر ترقیاتی بورڈ میں جونئیر سائنٹسٹ کی حیثیت سےفروری۱۹۸۶ تا ۱۹۹۰ کام کرتے رہے۔
اس کے بعد۱۹٩٠ تا سال ٢٠٠٠ لیکچرر کی حیثیت سے کام کیا۔
۔ ۲۰۰۲ تا فروری ۲۰۰۵ تک "۔W.W.F" میں
" Technical Advisor" کی حیثیت سے کام کیا۔
. اپریل ۲۰۰۵ میں ہزارہ یونیورسٹی میں باٹنی کے پروفیسر مقرر ہوئے۔ اسی سال اُن کی انتھک کوششوں کی وجہ سے جینٹکس ڈیپارٹمنٹ کی منظوری ہوئی اوروہ
"
Founder Chairman of Genetic Department" t" مقر ہوئے۔
جولائی۲۰۰۴ سے ہزارہ یونیورسٹی کے "ڈین آف سائنسز"
نامزد ہوئے۔
صوبے کے پہلے "Tenured Professor " کا عہدہ انہیں .سال ۲۰۱۱ میں دیاگیا۔
" اُن کی دن رات پُرخلوص محنت اور کاوش نے ہزارہ یونیورسٹی کو پاکستان کے بہترین یونیورسٹیوں میں شامل ہونے کا درجہ دیا۔ یونیورسٹی کی تزئین وآرائش باغات اور پودوں کے ساتھ ساتھ عمارات اور سڑکوں سے کی گئی۔ اُنکی بےلوث وبے غرض محنت رنگ لائی جب وہ ۲۰۱۵ میں ہزارہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر نامزد ہوئے۔ ا یچ ۔ای ۔سی سےخطیر فنڈ منظور کراکے صوبے بھر کی پہلی اور پاکستان کی جینیٹکس کی دوسری بڑی لیبارٹری کی ہزارہ یونیورسٹی میں بنانے کی منظوری کروادی۔
جولائی ۲۰۱۷ میں اسلامیہ کالج یونیورسٹی کےوائس چانسلر مقرر ہوۓ۔ وہاں پر نت نیے ترقیاتی منصوبوں پر کام کیا۔چونکہ پشاور صوبے کا مرکزہے لہٰذا طلبٰہ کی سہولت کے لیے ہزارہ یونیورسٹی سے صوبے کی واحد جینٹکس لیبارٹری یہاں منتقل کی۔
اُنہیں طلباء وطالبات کی ضروریات کا احساس تھا۔ خصوصاً طلبہ کےلیے رہائشی سہولتوں کی اور لیبارٹریوں میں سامان کی کمی کا۔ لہذا اُنہون نے اللہ کی کرم اور اپنی بہترین سعی، ایمانداری اور اچھی ساکھ کی بِنا پر اسلامیہ کالج یونیورسٹی کی لیبارٹریوں، ان کے لیےسازوسامان اور طلبہ و طالبات کے لیے ہاسٹلوں کی تعمیر کے لیے ہائیرایجوکیشن کمیشن سے ایک خطیر فنڈ کی منظوری کروائی۔
غرض یہ کہ وہ جس ادارے میں گئےاُسے اپنے گھر اور بچوں سے زیادہ توجہ دی۔ اور یہی وجہ ہے کہ ایماندار افسروں اور منتظمین میں اُن کا نام انتہائی عزت واحترام سے لیا جاتاہے اور لیا جائے گاانشا اللہ العزیز۔وہ ایمانداری ، حب الوطنی اور فرض شناسی کا ذندہ مثال تھے۔
ریٹائرمنٹ کے بعد انہیں تاحیات معلمی کا عہدہ )Professor of Emirates " ہزارہ یونیورسٹی میں دیا گیا۔ آخر وقت تک اپنے محبوب پیشے، معلمی سے وابستہ رہے ۔
وہ ہمیشہ کہا کرتے تھے " میں خود کو وائس چانسلر یا سائنسداں کی بجائے اُستاد یا پروفیسر کہلوانا پسند کرتا ہوں۔"
میں آخر کون سا موسم تمہارے نام کردیتا
یہاں ہر ایک موسم کو گذرجانے کی عادت تھی
ذاتی زندگی
ڈاکٹر حبیب احمد انتہائی حلیم اور شفیق انسان تھے۔چھوٹون ، بڑوں سب سے یکساں بلا تکلف بات کرتے تھے۔غریب پرور ، بے ضرر، صلح جواورحق گو انسان تھے۔
یونیورسٹی کے ایک پروفیسر بیان کرتے ہیں کہ ایک دن اُن کا ایک جونئر سر پرا پروفیسراُن کے دفتر آیااور واہیات بک کر چلا گیا۔ اور سر خاموش رہا۔دروازے پر جو سیکیورٹی گارڈ بیٹھا تھا اسے پروفیسر کا لہجہ اور باتیں پسند نہیں آئی۔
اُس نے میرے سامنے عہد کیا کہ میں اس پروفیسر کو گھر جاتے ہویے سبق سکھاونگا تاکہ یہ بات کرنے کا تمیز سیکھے ۔میں نے سر حبیب احمدسے اس بات ک تذکرہ کیا تووہ مسکرایے اور کہا کہ اس سیٹ پر بیٹھ کر برداشت کا مظاہرہ ضروری ہے ، صاحب اختیارکو ذیادہ صابر ہونا چاہیے۔میرے آفس سے نکلتےہی اُس نے مذکورہ گارڈ کو( اصل صورتحال کے بارےمیں اسے کچھ بتائےبغیر)اُس پروفیسر کا کے حفاظت پر مامور کیا اور اُسے تاکید کی کہ وہ ہر حال میں اس کی حفاظت کرنے میں کوتاہی نہ برتے ۔اگر کچھ ہوگیا تواُس سے وضاحت طلب کی جائیگی۔
مستحقین کی مدد میں ہمیشہ سب سے آگے رہتے۔خاکساری ، نفاست ، ہمدردی اور خداترسی اُن میں کھوٹ کھوٹ کر بھری ہوئی تھی۔
انتہائی رحم دل اور نرم مزاج تھے۔ اُنکی نرمی سے اکثرلوگوں نے غلط فایدہ بھی اُٹھایا ۔لیکن اللہﷻ نے ہر موڑ پر اُنکا ساتھ دیا۔
پریشانی یا ناراضگی کی حالت میں پودوں کو پانی دینا شروع کرتےاور کہا کرتے تھے کہ پودوں کا پیاس بجھا کراور ان کو لہلہاتے دیکھ کر خوشی کا احساس ہوتا ہے اور دل کا بو جھ بھی کم ہو جاتاہے۔
خوش لباس تھے۔ سادہ مگر قیمتی اور پُر وقار لباس پہنتے تھے۔ سلاد ، لسی، سبزی اور پھلوں کو کھانے میں ترجیح دیتے تھےاور یہی وجہ تھی کہ تو بلڈ پریشر وغیرہ سے بچے رہے۔ اتنی طویل مطالعے ،کئی کتابیں اور بےشمار آ رٹیکل لکھنےکے باوجود , یہ اُن پر اللہﷻ کا احسان تھا کہ اُنہیں ذندگی بھر عینک کی استعمال کی ضرورت نہیں پیش نہیں آئی۔
دینی معاملات میں بھی اُن پر اللہ کا کرم تھا کہ نوجوانی ہی سے ماتھے پر محرابِ سجدہ جھلملانے لگا تھا۔ حج اور عمرہ کیا ۔ تلاوتِ کلامِ پاک معمول کا حصہ تھا۔ صوم وصلاة کے پابند اور تہجد گزارتھے۔
یہ اُن پر ربِّ کریم کا خصوصی کرم اور احسان تھا کہ وفات سے قبل اپنی بیگم اور بھائی رشیداحمد کے ساتھ حج کی سعادت حاصل کی ۔ اُن کے حج کی ادائیگی کے بعد ، وباء کیوجہ سے حج کا سلسلہ منقطعہ ہوا اور آج تک غیرملکی عاڑمین حج کا سلسلہ رُکا ہوا ہے۔
بہن بھائیوں میں وہ پانچویں نمبر پر تھے ۔ والدین اور بہن بھائی اُنہیں سعیداحمد کے نام سے پکارتے تھے۔ انکی بڑی بہن محکمہ صحت سے وابستہ رہی.وہ مٹہ سب ڈویژن کی پہلی خاتون اور کئی دہائیون تک واحد
" Lady Health Visitor "رہی۔ یہ اُن دنوں کی بات ہے جب یہاں عورتوں کی تعلیم کو بہت ہی معیوب سمجھا جاتا تھا۔بڑے بھا ئی ڈاکٹر شفیق احمد کے خدمات بھی علاقے کے غریب عوام کے لئے نا قابلِ فراموش ہیں۔ انُکے کردار میں ڈاکٹر شفیق احمد کی رہنمائی محبت، خلوص اور علم دوستی کا بڑا ہاتھ ہے۔ انکے چھوٹے بھائی ؛ ڈاکٹر رشید احمد (وائس چانسلر آف ملا کنڈ یونیورسٹی ) اور ڈاکٹرافتخار احمد تمغۀِ امتیاز ( وائس چانسلر آف گومل یونیورسٹی ) ہیں۔ باقی تین بہنیں بھی درس و تدریس کے پیشے سے وابستہ رہی ہیں۔
ڈاکٹر حبیب احمد کو اللہ تبارک وتعاٰ لیٰ نے پانچ بیٹیوں اور ایک بیٹے سے نوازا۔ بیٹا،وقاراحمد پی ایچ ڈی کی ڈگری کے منتظر ہے۔دو بیٹیاں برسرِ روزگار ہیں۔ اُن کی دوسری بیٹی اُن کی ذندگی میں ہسپتال میں ڈاکٹر کا عہدہ سنبھال چکی تھی جبکہ باقی بچے اعلیٰ نمبروں میں ماسٹر اور ایک بیٹی ایم۔ فل ہونے کے باوجود، اُنکی وفات تک بے روزگار رہی ۔ وہ حال ہی میں پبلک سروس کمیشن کے ذریعے ڈرمٹالوجسٹ کے عہدے پر فائزہوئی ہے۔ اُنکی بیگم بھی سُلجھی اورباوقار شخصیت کی مالک . ہےاور ڈاکٹر صاحب کی کردار کے نکھار میں اُنکا بھی کافی حصہ ہے۔
یہ ہے اُس درویش صفت اور شہر یارِ علم ، وائس چانسلر کی کہانی جن کی تنخواہ سے با قاعدگی کے ساتھ مستحق طلبہ وطالبات کے داخلہ کے فنڈ میں پیسہ ، انکی ریٹائرمنٹ تک جمع ہوتا رہا۔ اپنے بچوں کی طرح غریبوں کے بچوں کی تعلیم کے لیے کوشش کرتے رہے ۔ اُنکا گھر کسی لنگر خانے سے کم نہیں تھا۔انتہائی سخی اور مہمان نواز تھے۔ اُ نہوں نے اپنے لئےذاتی مکان کی تعمیر کاکام اپنی پنشن سے ملنے والی رقم سے شروع کیا اور اُن کی وفات تک وہ تعمیر نہ ہو سکا ۔موجودہ دور میں ایسے گوہر ناپیدو نایاب ہیں۔
ہزاروں سال نرگس اپنی بےنوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتاہےچمن میں دیدہ ورپیدا
ڈاکٹر حبیب احمد سات اپریل ۲۰۲۱ کو نہ صرف پاکستان میں اپنے پیاروں بلکہ دنیا بھر میں شاگردوں اوردوستوں کو اشک بارچھوڑ کر اپنے خالقِ حقیقی سے جاملے۔اس علم کے خزانے اور بہار کے جھونکے نے بہار ہی کے موسم میں اس دارِ فانی کو الوداع کہہ کر نہ صرف علاقے کو بلکہ گوشۀِ علم وتحقیق کو ویران کرکے دارِ بقا کی راہ لی۔ اللہ رب العزت اُن کوانبیاء وشہداء کی قربت نصیب فرماۓ۔آمین
آسماں تیرے لحد پہ شبنم افشانی کریے
سبزۀِ نورٌستہ اس گھرکی نگہبانی کریے
میں بعدِ از مرگ بھی بزمِ وفا میں زندہ ہوں .
.
. تلاش کر مِیری محفل، مِرا مزار نہ پوچھ
تحریر : نون سعید
مفلوج
(مرکزی خیال بالکل حقیقت پر مبنی ہے)
ڈاکٹرانجم آرا میری بچپن کی سا تھی ، جنہیں دیکھے چا لیس سال سے بھی ذائد کا عرصہ گذرا ہے اب وہ" فہم القرآن " وھاٹس ایپ گروپ کی ایڈمن ہیں ، جسمیں زیادہ تر قرآن شریف کی تفسیرو تو توضیح ہوتی ہے۔ اسی گروپ کے توسط سے گزرا دور واپس آیا۔ اب فا صلے سمٹ گئے۔ کبھی کبھار وائس میسج کے زریعے رابطہ ہوتا رہتا ہے۔
ڈاکٹر انجم کبیر پرائیویٹ ٹیچنگ ہسپتا ل پشاور میں ایسوسی ایٹ پروفیسر بھی ہیں۔
ایک دن انہوں نے گروپ میں ایک پیغام شئر کیا۔ پیغام کچھ یوں تھا کہ انجنیئرنگ یونیورسٹی کے ایک سید ذادے کو ساڑھے تین لاکھ روپے کے بقایاجات کی وجہ سے ڈگری نہیں مل رہی ۔اگر گروپ اراکین اسکی مددکریں، تو ایک ضرورت مند ، وہ بھی سید گھرانے کا غربت وافلاس کے مار سے بچ جاۓ گااور ہاں یہ بات نوٹ کریں کہ ذکوٰة کی رقم امداد میں دینےسے اجتناب کرے ۔ کیونکہ سیّد کو مال کا میل نہیں دیا جاسکتا۔
پیغام پڑھ کے میں نے اسے تقریباً نظر انداز کیا کہ چلیے ضرورت مندہے تو کیا ہوا۔ کیا ہمارے قرب و جوار میں ضرورت مند کم ہیں۔ اُ س وقت میں بھول گئی انسانیت اور اسلام کے آفاقی درس کو۔۔۔
نیل کے ساحل سے لے کر تابخاکِ کاشغر
گھر کے کام کاج میں عموماً کی طرح منہمک رہی۔ عشاء کی نماز میں سید ذادےانجنئرکی طرف دھیان گیا پھر نماز یکسوئی کے ساتھ ادا نہ کرسکی کیونکہ ِیکایک ذہن کے پردے پر ایک بھولی بسری کہانی متحرک ہوئی۔ جی چھڑانے کے باوجود رات دیر تک ذہن اُن کرداروں کے تا نے بانے میں محو تھا۔
*****
ہسپتال کے ایک بیڈ پر ایک لاچار , مفلوج ومفلوک الحال مریض پڑا ہر وقت چھت کو تھکتا رہتا تھا۔ مریض کی حالت اچھی نہیں تھی۔ اُن دنوں جب وہ ہسپتال میں داخل تھا تو وہاں ایک نئے ڈاکٹرکا تبادلہ ہوا ۔ ڈاکٹر کوچہرہ کچھ جانا پہچانا لگا لیکن پہچاننے سےقاصر رہا۔ کئی دن کے علاج کے بعد آخرکار اس نے ایک قریب والے بیڈ کے مریض کے رشتہ داروں سے اس مفلوج بیمار کی ذاتی ذندگی کے بارے میں پوچھا کیونکہ مریض خود بولنے سے قاصر تھا۔
چوونکہ وہ شخص گاوں میں بھی اُسکا قریبی ہمسایہ تھا لہذا وہ مریض کے بارے میں اچھی طرح جانتا تھا۔اس نے کہا کہ مریض سراج کا بڑا بھائی کبھی کبھار اُسے دیکھنے آتا ہےاور بڑا بیٹا رات کو آتا ہے۔ چونکہ اس کے باقی بہن بھائی چھوٹے بہن بھائی چھوٹے ہیں اور کمائی کا کوئی دوسرا وسیلہ نہیں ہے لہذا دن کے وقت بیٹا دیہاڑی وغیرہ کرنے گاوں جاتا ہےاور رات کو واپس ھسپتال آتا ہے۔ میں اپنے والد کے ساتھ ساتھ اس کا بھی بیٹے کے آنے تک دیکھ بھال کرتا ہوں۔
سراج الدین گاوٴں میں ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھنے والا انتہا ئی محنتی اور قابل طالب علم تھا۔ ابھی ایف ۔ایس۔ سی۔ میں تھا کہ گاوں اور گاوں سے باہرکے طالب علموں سےمعاوضہ لے کرانہیں پڑھایا کرتا تھا۔ ان پیسوں سے اپنے اخراجات کے ساتھ ساتھ بڑے بھائی کے میڈیکل کے اخراجات بھی وہ پورا کرتا تھا۔ بڑے بھائی نے غربت کے باوجود چھوٹے بھائی کی مالی معاونت کے سہارے میڈیکل میں داخلہ لیا تھا۔
یہ ان دنوں کی بات ہے جب میڈیکل کالجوں میں صرف اچھے نمبرات کی ضرورت ہوتی تھی، مقابلے کے امتحان یا انٹری ٹیسٹ کی نہیں۔ ایف۔ایس ۔ سی میں سراج نے بہت اچھے نمبر حاصئل کیے ۔ خیبر میڈیکل کالج میں اسے بالکل آسانی سے داخلہ ملتا لیکن بڑے بھائی کے میڈیکل کےاخرا جات کے لیے اس نے اپنا داخلہ ،اسکے میڈیکل کی تکمیل تک ملتوی کیا۔
وہ طلبا ء کو تسلسل کے ساتھ اتالیق کی حیثیت سے پڑھاتا رہا۔ اور اپنے بھا ئی کے میڈیکل کے اخراجات کو اُٹھاتا رہا۔ آخر کار بھائی کی میڈیکل مکمل ہوئی اور وہ ہاوس جاب کرنے لگا۔
چونکہ اب بڑے بھائی کوتنخواہ ملنے لگی تھی لہذا سراج نے اب میڈیکل کالج میں داخلہ لیا۔ اسکا خیال تھا کہ بڑا بھائی اب ڈاکٹر ہے تو وہ خرچہ خرچ اُٹھائےگا۔ اس نے اپنی ساری کمائی بھا ئی کی کامیابی پر صرف کی تھی اور خوش تھا کہ خاندان کو کمائے والے سپوت کے ساتھ ساتھ عزت و وقار بھی ملی۔
لیکن یہ کیا ؟ زمانہ تو ویسے ہی بیگانہ تھا ، اپنے بھی بیگانے اور انتہائی احسان فراموش نکلے۔ دو سال بعد شادی ہوتے ہی ڈاکٹر بھا ئی نے نظریں پھیر لی۔ شادی اس نے ایک مالدار گھرانے سے کی تھی۔پہلے والدین سے الگ ہوا ۔ سراج جس گھرمیں رہتا تھا وہ دونوں بھائیوں کو والدین سے ترکے میں ملا تھا۔ والدین کے انتقال کے بعد، بڑے بھائی نے اپنے حصے کا مکان ہمساۓ کے ہاتھ بیچ ڈالا۔ پھر حیلوں بہانوں سے سراج الدین کےمیڈیکل کے ا خرا جات اُ ٹھانے سے انکاری ہوا۔ یہ وہی بڑا بھائی تھا جسکے لیے سراج نے ذندگی کے قیمتی سال ٹیوشن پڑھاتے ہوئے گذارےتھے اور اب اُسے بھائی کی امدادکی اشد ضرورت تھی لیکن اس نے احسان فراموشی کی انتہاء کر دی۔
وقت گذرتا گیا۔ سراج کے میڈیکل کا آ خری سال آگیا۔ تمام امتحانات اس نے اچھے نمبرات سے پاس کیے تھے۔ لیکن میڈیکل کالج کو کئی سالوں سے واجبات ادا نہ کرنے کی وجہ سے اسے ڈگری نہیں ملی یا شائد آخری امتحان میں بیٹنے کی بھی اجازت نہیں ملی ۔ انکے شاگرد بھی اچھے اچھے عہدوں پر تھے لیکن کئی سالو ں کے واجبات تھے لہذا کوئی ایک اسے ادا کرنے سے قاصر رہا ۔اپنا سگا بھائی بے حس اور خود غرض تھا۔ گاوں والوں کو اس بات کی اہمیت کا سرے سے احساس ہی نہیں تھا کہ اسکے کتنے قیمتی سال ضائع ہو رہے تھے۔اور تو اور غریب کولوگ قرض بھی نہیں دیتے۔
بقولِ فیض احمد فیض صاحب:
اوربھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا
آخرکار ڈاکٹر بننا سراج کے لئے قصہِ پارینہ بن گیا۔ اور اس نے یہ خیال ہمیشہ کے لیے دل سے نکال دیا۔
سات آٹھ افراد پر مشتمل گھرانے کے لیے آب و دانہ پیدا کرنے میں وہ اتنا مقروض ہوا کہ اپنا آشیانہ ، والدین کی واحد نشانی اور سر کا سائباں تک بیچنے پر مجبور ہوا۔ اب وہ اپنے ہی گھر میں کرائے پر رہ رہا تھا۔ اپنوں یا غیروں میں کوئی مدد کے لیے تیار نہیں تھا اوربےبسی کے عالم میں مسکّن دوائیں لینا شروع کیے۔
مریض کے بھائی نے بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ بدقسمتی کی انتہا دیکھئے کہ نہ تو روزگار مل رہا تھا اور نہ ہی دن پھر رہے تھے اتنے میں انہیں ہیپاٹا ئیٹس نےآ گھیرا۔پھر رہی سہی کسر فالج نے پوری کی اور اب وہ ہمارے سامنے ہے۔میں اس کے دیکھ بھال کی بھر پور کوشش کر رہا ہوں۔ لیکن میرے اپنے بھی ڈھیر سارے مسائل ہیں۔ذیادہ تر دوائیاں اسکے لئے میں لاتا ہوں۔
کہانی ختم کرکے اس نے ڈاکٹر کی طرف دیکھا تو وہ زارو قطا ر رو رہا تھا۔ ڈاکٹرنے مریض کو گلے سے لگا کرایک کرب کے ساتھ، ہچکیوں کے ساتھ کہا
آہ !یہ تم ہو سراج ۔۔۔ یہ تم نے کیا حالت بنا رکھی ہے۔اے میڈیکل کالج کے ذہین سٹوڈنٹ اور بہترین نوٹس بنانے والے۔ نہیں۔ یہ تم نہیں ہوسکتے ، تم نے تو طب کی دنیا میں نام پیدا کرنا تھا۔ تم نے تو میڈیکل ساینس کا اِبن سینا بننا تھا۔ تو نے تو میرا محنت، قابلیت اور انسانیت پر سے یقین ختم کردیا۔ کیا تقدیر اتنا بے رحم ہوتا ہے یا انسان۔۔۔
کچھ دیر بعد ڈاکٹر نے پیار اور احترام کے ساتھ اسے تکیے کے ساتھ لٹایا ۔ مفلوج کے آنکھوں سے آنسوؤں کے قطرے نکلے تھے اور مہربان ڈاکٹر کو دیکھتے دیکھتے اسکی آنکھیں ساکن ہو گئ تھیں ۔وہ اپنے عزتِ نفس کو مزید مجروح ہونا نہیں چاہتا تھا اور رنگ و بو کی دنیا جو اس کے لیے کب سے بے رنگ و بو ہو چکی تھی ، سے اُس نے ناطہ توڑا تھا۔
*****
میرے ضمیر نے مجھے جنجھوڑا۔
اور میں نے عزم کیا کہ مجبور اور ضرورت مند سیٌد ذادے کو ہم نے دنیا کے بازار میں در در کی ٹھوکریں کھانے سے بچانا تھا۔ ہم نے اپنا اپنا حصہ استطاعت کے مطابق ڈال کر ایک دوسرے اہلِ علم و ہنر کی صلاحیتون کو تباہ زنگ لگنے سے بچانا تھا۔ ہم کوشش کریں گے، نیا پار کرنے والا اپنا ہنر دکھائے گا۔ میں نے وقت ضائع کیے بغیر اینڈرائیڈ موبا ئیل
اُ ٹھایا اور مختلف وھاٹس ایپ گروپوں کے ساتھ ساتھ ، ذاتی جان پہچان والے لوگوں کو بھی ڈاکٹر انجم کا پیغام ، مذید کچھ توجہ حاصئل کرنے والے اضافی الفاظ کےساتھ آگے بڑھا دیا ۔
ایک ہفتے تک میں ہدیہ دینے والوں کے ساتھ مسلسل رابطہ میں رہی۔ لوگوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔
دس دن بعد ڈاکٹر انجم کا پیغام آیا ،" الحمد للہ سید ذادے کےواجبات کی رقم پوری ہوئی ہے ، مذید چندہ دینے کی ضرورت نہیں"۔
تحریر : نسیم سعید (نون)
Comments
Post a Comment