ڈاکٹر حبیب احمد (تمغۀِ امتیاز)

                         گوہرِ نایاب

ڈھونڈا کریں گے ہم تمہیں فصل بہار میں

ڈاکٹر حبیب احمد 


انسان اللہ تبارک تعالٰی کی عظیم تخلیقات میں سے وہ نایاب تخلیق ہے جس کے لیے دنیابنائی

گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ بعض انسانوں کو ستاروں کی طرح روشن اور لوگوں کے لیے مشعلِ راہ بناتا ہے۔

ان ستاروں میں  سے ایک درخشاں ستارہ پاکستان کے شفیق و دردمند اُستاد، مایہ ناز سائنسداں

اور محقق و مصنف ڈاکٹر حبیب احمد ہے۔


یہ تابناک ستارہ سوات کے ایک خوبصورت اور وسیع و عریض وادی مٹہ میں مولوی محمد سعید کے گھر، جولائی ۱۹۵۹ میں چمکا اور اسکی روشنی

دور دور تک پھیل گئی۔

ڈاکٹر حبیب احمد کے بارے میں شاید میرے الفاظ ناکافی اور زُبان خام ہو ۔ لیکن کوشش کرنے میں کوئی حرج نہیں۔


ان کے بارے میں لکھنے سے قبل اُنکے والدِ محترم کا مختصر تعارف ضروری ہے۔ مولوی محمد سعید صاحب المعروف بہ سیرئ اُستاد مٹہ کے چند اولین اساتذہ میں سے ایک تھے۔ وہ عالمِ  دین بھی تھے۔ وہ گورنمنٹ پرائمری سکول مٹہ میں تدریس و تربیت

کے ساتھ ساتھ طلبہ کے قلم اور سیاہی بنانے کا کام بھی بخوشی کرتے تھے۔ غریب طالب علموں کی مالی مدد کرنا اپنا فریضہ سمجھتے تھے۔ انتہائی محنتی اور ایماندار تھے۔


شاید ڈاکٹر حبیب احمد اُن کے والد کی فرض شناسی، بے لوث خدمت اور اُن کی ایمانداری کا ثمر تھا۔


کامیابی کا سفر



ڈاکٹر حبیب احمد نے میٹرک تک تعلیم گورنمنٹ ہائی سکول مٹہ سے حاصل کی۔ ایف۔ ایس۔ سی گورنمنٹ ڈگری کالج مٹہ سے ، بی۔ ایس ۔ سی جہان زیب کالج سیدو شریف سے ۔ ایم۔ ایس ۔ سی۔ اور ایم ۔ فل پشاور یونیورسٹی سے کیا.

سال ۲۰۰۳ میں پنجاب یونیورسٹی سے "Cytogenetics " میں پی۔ایچ۔ڈی کی ڈگری حاصل کرنےکے بعد اُن کی کامیابی کا ایسا سفر شروع ہوا، جو بہت کم لوگوں کو نصیب ہوتا ہے۔ 


پی ایچ ڈی کے بعد بھی آپ نے تجربات و تحقیق کے

سلسلے کو جاری رکھا۔ سائنس میں آپ کی خدمات و قابلیت کا اعتراف نہ صرف قومی سطح پر کیا گیا

بلکہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اُن کی شہرت بین الاقوامی سطح تک پہنچ گئ۔


ڈاکٹر حبیب احمد کی نگرانی میں پی ایچ ڈی کے ۲۸ اور ایم ـ فِل کے ۱۲۸ سکالرز کامیابی سے ہمکنار

ہوئے۔ ان سے فیض یاب ہونے والے طلبہ وطالبات کی تعداد لاکھوں میں ہیں۔


اُن کے ۲۹۴ ریسرچ آرٹیکل مختلف قومی اور

بین الاقوامی جرنلز میں شائع ہوئے۔ انہوں نے مونو گرافس اور ۳۴ کتابیں  لکھیں۔ اُن کی کتابوں

اور تحقیقی مقالوں کو دیکھ کر یہ اندازہ لگانا مشکل ہے کہ اتنی مصروفیات کے باوجود اُنہوں نے 

تحقیق و تصنیف کے اتنے بڑے خزانے کو کس وقت مرتب کیا؟         



حکومت پاکستان نےسال ۲۰۱۱میں تحقیق کے میدان میں بیش بہا خدمات کے بدولت انہیں ملک کے سب سےبڑے سویلین اعزاز " تمغۀِ امتیاز" سے نوازا۔


امریکہ کے "جینیٹکس سوسائٹی " نے۲۰۲۰ میں انہیں دنیا میں جینٹکس کے بہترین سائنسداں کا اعزاز دیا۔

دنیاکے 2 فیصد بہترین سائنسدانوں میں اُنکا نام

شامل رہا۔


ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے سال ۲۰۱۵ میں ان کو بہترین یونیورسٹی پروفیسر کا ایوارڈ دیا ۔ .

"۔Leading Scientist of the World "
کا ایوارڈ اُن کو حکومتِ برطانیہ کیطرف سے ملا۔

سال۲۰۱۳ میں "حسنین" نامی سرسوں کےا علیٰ قسم کے بیج کو متعارف کیا۔ اس بیج کو حکومتی حلقوں کے ساتھ ساتھ نجی شعبے نے بھی سراہا۔


ڈاکٹر حبیب احمد مسلسل 2011 سے 2016 تک
"Productive Scientist of Pakistan"
کے اعزاز کے لیے نامزد ہوئے۔


مختلف مواقع پر وفاقی و صوبائی حکومت اور یونیسکو نے اُن کو سال کےبہترین اُستاد کی اعزاز سے نوازا۔


پودوں پر تحقیق  کرنےکے لیے انہوں نے زندگی وقف کی تھی۔ آخر دم تک انسانیت کی فلاح کے لیے تحقیق

کرتے رہے۔ انسانی  صحت کے لیے مختلف پودوں کے

محاسن ڈھونڈنے کے لیے تجربات وتحقیق کا ایک گراں بہا خزانہ ، مختلف اور مستند ومعروف جرنلز میں شایع  کیا۔ صحت کے لیے مفید پودوں کی تلاش میں اکثر وبیشتر دور دراز اور سنگلاخ پہاڑوں کے سفر پر جاتے اور پودے لیبارٹری لاتے پھر ان پر تحقیق کرتے۔انسانی جین پر بھی اُنکی تحقیقی نتائج قابلِ قدر اور مستند مانے جاتے ہیں۔



  پیشہ ورانہ زندگی


  ڈاکٹر حبیب احمد سب سے پہلے اسلا م آباد میں پاکستان ایگریکلچر ترقیاتی بورڈ میں جونئیر سائنٹسٹ کی حیثیت سے فروری ۱۹۸۶ تا ۱۹۹۰ کام کرتے رہے۔ اس کے بعد ۱۹٩٠

سے سال ٢٠٠٠ لیکچرر کی حیثیت سے فرائض انجام دیے۔

سال ۲۰۰۲ تا فروری ۲۰۰۵ میں اقوامِ متحدہ کے

ادارے " ڈبلیو ڈبلیو ایف " میں ٹیکنیکل ایڈوائزر

کی حیثیت سے کام کیا۔


ڈاکٹر حبیب احمد اپریل ۲۰۰۵ میں ہزارہ یونیورسٹی میں باٹنی کے پروفیسر مقرر ہوئے۔ اسی سال اُن کی انتھک کوششوں کی وجہ سے یونیورسٹی میں جینٹکس ڈیپارٹمنٹ کی منظوری ہوئی اور وہ

اس کے پہلے چیئرمین مقرر ہوئے۔


جولائی۲۰۰۴ سے ہزارہ یونیورسٹی کے "ڈین آف سائنسز"

 نامزد ہوئے۔


سال ۲۰۱۱ میں صوبے کے پہلے

"Tenured Professor " کے عہدہ پر فائز ہوئے۔

اُن کی دن رات پُرخلوص محنت اور کاوش نے

ہزارہ یونیورسٹی کو پاکستان کے بہترین یونیورسٹیوں میں شامل ہونے کیا۔

یونیورسٹی کی تزئین وآرائش باغات اور پودوں کے ساتھ ساتھ عمارات اور سڑکوں سے کی گئی۔


آخر کار اُنکی بے لوث و بے غرض محنت رنگ لائی اور

وہ ۲۰۱۵ میں ہزارہ یونیورسٹی ہی کے وائس چانسلر نامزد ہوئے۔ ا یچ ۔ ای ۔سی سے خطیر فنڈ منظور کرکے صوبے بھر کی پہلی اور پاکستان کی جینیٹکس کی دوسری بڑی لیبارٹری کی ہزارہ یونیورسٹی میں بنانے کی منظوری کروادی۔


  جولائی ۲۰۱۷ میں اسلامیہ کالج یونیورسٹی کےوائس چانسلر مقرر ہوۓ۔ وہاں پر نت نیے ترقیاتی منصوبوں پر کام کیا۔چونکہ پشاور صوبے کا مرکزہے لہٰذا طلبٰہ کی سہولت کے لیے ہزارہ یونیورسٹی سے صوبے کی واحد جینٹکس لیبارٹری یہاں منتقل کی تاکہ دور دراز کے سب طالب علم مستفید ہو سکے۔


اُنہیں طلباء وطالبات کی ضروریات کا احساس تھا۔ خصوصاً طلبہ کےلیے رہائشی سہولتوں اور لیبارٹریوں میں سامان کی کمی کا۔ لہذا اُنہون نے اللہ کی کرم اور اپنی بہترین سعی، ایمانداری اور اچھی ساکھ کی بِنا پر اسلامیہ کالج یونیورسٹی کی لیبارٹریوں، ان کے لیےسازوسامان اور طلبہ و طالبات کے لیے ہاسٹلوں کی تعمیر کے لیے حکومت سے ایک خطیر فنڈ کی منظوری کروائی۔


غرض یہ کہ وہ جس ادارے میں گئےاُسے اپنے گھر اور بچوں سے زیادہ توجہ دی۔ اور یہی وجہ ہے کہ ایماندار . افسروں اور منتظمین میں اُن کا نام انتہائی عزت واحترام سے لیا جاتاہے اور لیا جائے گاانشا اللہ العزیز!


  

 ریٹائرمنٹ کے بعد ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے انہیں   "Professor of Emirates "

کا عہدہ سونپا۔ اُستادِ گرامی آخر وقت تک اپنے محبوب پیشے

(معلمی) سے وابستہ رہے ۔ وہ ہمیشہ کہا کرتے تھے،

" میں خود کو وائس چانسلر یا سائنسداں کی بجائے اُستاد یا پروفیسر کہلوانا پسند کرتا ہوں"۔



میں آخر کون سا موسم تمہارے نام کر دیتا

یہاں ہر ایک موسم کو گذر جانے کی عادت تھی


ذاتی زندگی

ڈاکٹر حبیب احمد انتہائی حلیم اور شفیق انسان تھے

چھوٹوں، بڑوں سب سے یکساں بلا تکلف بات کرتے تھے۔غریب پرور ، بے ضرر، صلح جو اور حق گو انسان تھے۔ عاجزی اور انکساری ان کے مزاج میں کوٹ کوٹ کر بھری تھی۔


انتہائی رحم دل اور نرم مزاج تھے۔ اُنکی نرمی اور خدا ترسی سے بعض لوگوں نے غلط فائدہ بھی اُٹھایا۔ لیکن

اللہ تعالیٰ نے ہر موڑ پر اُس کا ساتھ دیا اور وہ سرخرو رہے۔


پریشانی یا ناراضگی کی حالت میں پودوں کو پانی دینا شروع کرتےاور کہا کرتے تھے کہ پودوں کا پیاس بجھا کر ، ان کو لہلہاتے دیکھ کر مجھے خوشی کا احساس ہوتا ہے۔ اس سے میرے دل کا بو جھ بھی کم ہو جاتا ہے۔



خوش لباس تھے۔ سادہ مگر پُر وقار لباس پہنتے تھے۔ کھانے میں زیادہ تر سلاد، دودھ، لسی، سبزی اور پھلوں کو ترجیح دیتے تھے اور یہی وجہ تھی کہ بلڈ پریشر اور شوگر سے عمر بچے رہے۔ اتنی طویل مطالعے اور تصنیف و تالیف کے باوجود اللہﷻ کا احسان تھا کہ اُنہیں عینک کے استعمال کی ضرورت پیش نہیں آئی۔

دینی معاملات میں بھی اُن پر اللہ کا کرم تھا۔ نوجوانی ہی سے ماتھے پر سجدے کا نشاں جھلملانے لگا تھا۔ تلاوتِ کلامِ پاک ان کے معمول کا حصہ تھا۔ صوم و صلاة کے پابند اور تہجد گزار تھے۔


عمرہ اور حج کے لیے دو مرتبہ حجاز شریف جانے کی سعادت حاصل۔

اپنی بیگم اور بھائی رشیداحمد کے ساتھ حج کرنے گئے۔ اُن کے حج کی ادائیگی کے بعد کووِڈ کی وباء کیوجہ سے حج کا سلسلہ منقطع ہوا اور آج تک غیرملکی عاڑمین حج کا سلسلہ رُکا ہوا ہے۔


ڈاکٹر حبیب احمد ایک باذوق انسان تھے۔ طالب علمی کے زمانے میں نور کے تخلص سے مادری زبان پشتو میں شاعری کیا کرتے تھے۔


ان کی ایک خوبصورت نظم نمونے کے طور پر درج کیا جاتا ہے۔


پہ لمبو بہ د وور سوزی کافران

بہ د نور پہ چینو لامبی جنتیان


بیا کفار بہ پاک الله تہ پہ زارئی شی

خدایہ مونگ تہ د جنت حال کڑے عیان


بیا جنت بہ د دوزخ پاسہ خکارہ شی

چہ بہ سیل پکے کوی پاک مؤمنان


بیا کفار بہ مؤمنانو تہ فریاد کڑی

منگہ ھم پہ ملگرتیا کڑئی د خپل ذان


جنتیان بہ پہ خندا ورته جواب کڑی

دے جنت د خوشحالئی د مسلمان


خدائے وعدہ دا د کفارو سرہ نہ کڑہ

تاسو خپل عمل دیرہ کڑئی پہ تیران


پہ دوزخ کے شرمندہ بہ کفار ناست وی

ترے پناہ بہ شی جنت د عرش پہ شان


نور دِ طمع د دیدار کڑی لویہ خدایہ

تہ مے ولیگے جنت تہ پہ ہر شان

(آمین)


* * * * * *


خاندان


ڈاکٹر حبیب احمد بہن بھائیوں  میں پانچویں نمبر پر تھے ۔ والدین اور بہن بھائی اُنہیں سعید احمد کے نام سے پکارتے تھے۔ بڑے بھا ئی ڈاکٹر شفیق احمد کی خدمات بھی علاقے کے غریب عوام کے لئے نا قابلِ فراموش ہیں۔ انُکے کردار میں ڈاکٹر شفیق احمد کی رہنمائی محبت، خلوص اور علم دوستی کا بھی بڑا ہاتھ ہے۔ انکے  چھوٹے بھائی ؛ ڈاکٹر رشید احمد (وائس چانسلر آف ملا کنڈ یونیورسٹی )  اور ڈاکٹر افتخار احمد (تمغۀِ امتیاز ) گومل یونیورسٹی کے وائس چانسلر ہیں۔


انکی بڑی بہن،اقبال بیگم محکمہ صحت سے کئی دہائیوں تک وابستہ رہی. وہ مٹہ سب ڈویژن کی پہلی خاتون ہیلتھ وزیٹر تھی۔ یہ اُن دنوں کی بات ہے جب یہاں عورتوں کی تعلیم کو بہت ہی معیوب سمجھا جاتا تھا۔ باقی

تین بہنیں درس و تدریس کے پیشے سے وابستہ رہی ہیں۔


ڈاکٹر حبیب احمدکی بیگم بھی تعلیم یافتہ، سُلجھی

اور باوقار شخصیت کی مالک ہیں اور ڈاکٹر صاحب کی کردار کو نکھارنے میں اُنکا بھی حصہ ہے۔


اللہ تبارک وتعاٰ لیٰ نے ان کو پانچ بیٹیوں اور ایک بیٹے سے نوازا۔ بیٹا وقار احمد اعلیٰ تعلیم یافتہ اور اپنے والد کی طرح انتہائی ملنسار ہے۔


ان کی بڑی بیٹی پشاور میں ڈرما ٹالوجسٹ ہے جبکہ دوسری بیٹی، اُن کی ذندگی میں میڈیکل آفیسر کا عہدہ سنبھال چکی تھی اور ایک بیٹی خیبر میڈیکل یونیورسٹی میں میڈیکل کی طالبہ ہے۔ باقی دو بچیاں بھی اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں۔


اُس درویش صفت اور شہر یار و علم دوست ، وائس چانسلر کی زندگی اُتار چڑھاؤ سے خالی نہیں تھی۔ لیکن وہ ہمیشہ مطمئن اور بے خو رہتے۔

اّن کی تنخواہ سے با قاعدگی کے ساتھ یونیورسٹی کے مستحق طلبہ و طالبات کے داخلہ کے فنڈ میں پیسہ انکی ریٹائرمنٹ تک جمع ہوتا رہا۔


اُنکا گھر کسی لنگر خانے سے کم نہیں تھا۔ انتہائی سخی اور مہمان نواز تھے۔ اُ نہوں نے  اپنے لئے ذاتی مکان کی تعمیر کا کام اپنی پنشن سے ملنے والی رقم سے شروع کیا اور اُن کی وفات تک وہ تعمیر مکمل نہ ہو سکی۔

ڈاکٹر حبیب احمد واقعی گوہر نایاب تھے۔

ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے

بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا


   ڈاکٹر حبیب احمد نے سات اپریل ۲۰۲۱ کو نہ صرف سوات اور پاکستان میں بلکہ دنیا بھر میں اپنے شاگردوں، دوستوں اور چاہنے والوں کو اشک بار چھوڑا اور اپنے خالقِ حقیقی سے جاملے۔


علم کے خزانے اور بہار کے جھونکے نے موسمِ بہار کو سوگوار کرکے دارِ فانی کو الوداع کہا۔ ان کے چلے جانے سے گوشۀِ علم وتحقیق میں اس کی کمی ہمیشہ رہی گی۔

اللہ رب العزت اُن کو انبیاء و شہدا کی صحبت نصیب فرماۓ۔ آمین یا رب العالمین۔


آسماں تیری لحد پہ شبنم افشانی کرے

سبزۀِ نو رٌستہ اس گھر کی نگہبانی کرے

علامہ اقبال


ڈاکٹر حبیب احمد صاحب کو مٹہ میں  معصوم شریف کے مقبرہ سے متصل، اپنے والدہ ماجدہ کے تربت کے دائیں پہلو  دفنایا گیا ۔

 ایسا لگتا ہے جیسے وہ آرام کرنے، والدہ کی آغوش 
میں آگیا ہو۔ 

اس خوش قسمت انسان کے مزار کے بلکل سامنے، چند گز کے فاصلے پر مسجد و مدرسہ ہے۔ جس سے پانچ وقت اللہ اکبر کی صدا کے ساتھ ساتھ  
مسلسل قرآن حکیم کی تلاوت کی گونج بھی
 اُٹھتی رہتی ہے۔ 

میں بعدِ از مرگ بھی بزمِ وفا میں زندہ ہوں
تلاش کر مِیری محفل، مِرا مزار نہ پوچھ

 

تحریر : نون سعید








Comments

  1. Allah unhain janant ul firdus ata parmai.or aap ko sabr Amin

    ReplyDelete
  2. اللہ خان لالا کو جنت الفردوس میں جگہ دے اور انکی قبر کو نور سے بھر دے

    ReplyDelete
  3. May his soul rest in peace 🕊️🕊️

    ReplyDelete
  4. May Allah bless him with high ranks in Jannah

    ReplyDelete

Post a Comment

Popular posts from this blog

گُلدستہِ اُردو

برگِ درختاں (نون سعید)